خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 208

1950ء 208 خطبات محمود ہمارے کام پہلے سے بہتر ہو جائیں گے۔ اس وقت جماعت پر خطر ناک طور پر نازک وقت آیا ہوا ہے اور مالی مشکلات درپیش ہیں۔ ایک طرف چندے وصول نہیں ہور ہے اور دوسری طرف اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ یہاں جو عمارتیں بنیں گی ان کو اگر ہم سستے سے سستا بھی بنوائیں تو دس پندرہ لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔ پھر اس اختلاف کی وجہ سے جو ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے نتیجہ میں ہوا ہمیں دو جگہ مرکز بنانا پڑا۔ یہاں بھی ایک ناظر اعلیٰ ہے اور قادیان میں بھی ایک ناظر اعلیٰ ہے۔ یہاں بھی ایک ناظر تعلیم ہے اور قادیان میں بھی ایک ناظر تعلیم ہے۔ یہاں بھی ایک محاسب ہے اور قادیان میں بھی ایک محاسب ہے۔ یہاں بھی ایک ناظر بیت المال ہے اور قادیان میں بھی ایک ناظر بیت المال ہے۔ ہندوستان کے چندے ادھر نہیں آسکتے وہ وہیں خرچ ہو رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ وہ رقم ضائع ہو رہی ہے ان لوگوں کا بھی حق ہے۔ لیکن یہ کام پہلے ایک انجمن ہی کر لیتی تھی اور وہ چندہ جو وہاں خرچ ہو رہا ہے بچ جاتا تھا۔ پس ایک طرف دولاکھ روپیہ وہاں رہ جانے کی وجہ سے یہاں کے چندوں میں کمی آگئی ہے اور دوسری طرف نہ ناظروں کو کم کیا جا سکتا ہے اور نہ دفاتر کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گویا آمد کم ہوگئی ہے لیکن اخراجات کم نہیں ہو سکے کیونکہ دونوں جگہ دفاتر کا ہونا ضروری ہے۔ پھر اور مصائب بھی آتے رہتے ہیں۔ مثلاً اب سیلاب کی آفت آئی ہے۔ اس سے پہلے ہے۔ اس سے پہلے زمینداروں نے قیمت کی کمی کی وجہ سے غلہ فروخت نہیں کیا اور نہ چندہ دیا۔ حالانکہ قیمتیں ایک حد تک ہی بڑھتی ہیں۔ اگر انہیں اس حد سے بڑھنے دیا جائے تو وہ نقصان کا موجب ہوتی ہیں۔ جیسے قیمتوں کو نیچے گرنے دینا نقصان دہ ہوتا ہے ویسا ہی قیمتوں کو بڑھنے دینا بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ مثلاً کپاس کی قیمت 140 روپے فی من ہو گئی ہے اور گو یہ اتفاقی امر ہے لیکن گورنمنٹ نے اس پر 180 روپے فی گانٹھ ٹیکس لگا دیا ہے اور یہ 60 روپے فی گانٹھ سے یکدم بڑھایا گیا ہے ۔ یہ ٹیکس زمینداروں کو مار دے گا۔ جب گورنمنٹ فی گانٹھ اتنا ٹیکس لے گی تو زمیندار کے لئے بہت کم رقم بچے گی ۔ 650 روپے فی گانٹھ قیمت ہوتی ہے۔ اگر اس میں سے 180 روپے فی گانٹھ گورنمنٹ کو ٹیکس ادا کر دیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ قریباً 85 روپے فی من قیمت ہوئی۔ جس میں 6 روپے فی من سیل ٹیکس اور کمیشن ایجنٹوں اور ریل کے کرایوں پر خرچ ہوگا۔ پس زمیندار کو پچیس روپے من ملے گا۔ اور چونکہ اس دفعہ فصل آدھی ہو گی اس پچیس کو ساڑھے بارہ روپے فی من سمجھنا چاہیے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ زمینداروں کو فائدہ پہنچایا