خطبات محمود (جلد 31) — Page 184
1950ء 184 خطبات محمود پانچ سات ایسے واقعات ہوئے ہیں ۔ ایک دفعہ اسی طرح ایک عورت آئی اور اس نے اپنے آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور خاموش رہے۔ اس پر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے شادی کی ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس کے مہر کے لئے کچھ ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ کیا قرآن کریم کی کچھ سورتیں تمہیں یاد ہیں؟ اس نے کہا یا رسول الله ! صرف آخری تین سورتیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا چلو یہی تین سورتیں اس عورت کو پڑھا دینا اور انہیں سورتوں کو میں تمہارا مہر مقرر کرتا ہوں ۔ عورت نے کہا مجھے منظور ہے ۔ 5 ان واقعات کو دیکھتے ہوئے تم دو ہی نام ان کے رکھ سکتے ہو۔ یا تو یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ اس دنیا سے اٹھ کر عرش پر بیٹھ گئی تھیں اور یا یہ کہہ سکتے ہو کہ وہ پاگل تھیں ۔ ان دو کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ۔ یا تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ انسانی معیار سے بہت بلند ہو کر رسے بلنہ آسمان پر چلی گئی تھیں اور یا میں یہ کہ سکتا ہوں کہ وہ پاگل تھیں۔ مگر انہوں نے جو قربانیاں کیں وہ پاگلوں والی نہیں تھیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُس وقت عورت عورت نہیں رہی تھی بلکہ وہ فرشتہ بن گئی وہ تھی ۔ یہ چیز ہمارے اندر بھی آسکتی ہے بشرطیکہ ہم عورتوں کی صحیح تربیت کا انتظام کریں۔ ہمارے دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے جب ہم باہر جاتے ہیں ۔ مگر اُن کے دلوں پر گھر میں بیٹھنے کی وجہ سے زنگ نہیں لگتا اور آہستہ آہستہ وہ ایسے بلند معیار پر پہنچ جاتی ہیں کہ اُس کا خیال کر کے بھی انسان در حقیقت حیران ہی رہ جاتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے۔ اپنے ذہنوں میں تم بھی سوچومیں نے تو کئی بار سوچا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم الگ الگ ہو کر بھی کبھی سوچا کرو کہ اصل ایمان کیا چیز ہے۔ 6 اگر ایک ایک بات پر انسان غور کرنے کی عادت ڈالے تو اس کی معرفت کہیں سے کہیں ترقی کر جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جہاد کے لئے جاتے ہیں اور مدینہ خالی ہو جاتا ہے۔ ایک عورت کے خاوند کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لئے باہر بھیجا ہوا تھا۔ وہ ہفتوں کے بعد بینہ میں واپس آتا ہے۔ چونکہ وہ لڑائیوں اور بدامنی کا زمانہ تھا اس لئے اس کی بیوی ہر روز یہی سمجھتی کہ نہ معلوم کب یہ خبر آتی ہے کہ میں بیوہ ہوگئی ہوں۔ اُن دنوں چاروں طرف دشمن تھا اور جو مسلمان تھے وہ بھی حدیث العہد تھے۔ اس لئے جس عورت کے خاوند کو باہر کسی کام پر بھیجا جاتا تھا وہ اپنے دل میں مدینہ