خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 11

1950ء 11 خطبات محمود پہلے میں نے توجہ دلائی کہ یہ اہم چیز ہے اور یہ کہ باؤنڈری کمیشن (Boundary Commition) نے دیدہ دانستہ گورداسپور کا علاقہ اس لئے ہندوستان کے سپرد کیا تھا تا کشمیر ان کے ہاتھ آسکے تو اُس وقت جماعت کی تعریف کی جاتی تھی۔ جب چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے امریکہ میں عرب اور پاکستان کے کیس کو اس عمدگی سے پیش کیا کہ ساری دنیا گونج اُٹھی تو اس کی تعریف کی جاتی تھی اور احمدی بہت خوش تھے۔ تھے۔ : جب میں انہیں کہتا تھا کہ تبلیغ کرو تو وہ کہتے تھے حضور ! کچھ عرصہ ٹھہر جا جماعت کے لئے فضا بہت اچھی ہے، لوگ اس پر خوش ہیں کہیں یہ فضا خراب نہ ہو جائے۔ لیکن میں کہتا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب وہی زبان جو اب تمہاری تعریف کر رہی ہے تمہاری موت کا فتوی دے گی ۔ اور آج کے دن پر تم پچھتاؤ گے کہ تم نے اسے ضائع کر دیا اور تبلیغ نہ کی۔ جائیے میری عمر میں سینکڑوں دفعہ میرا اور غیر مسلموں کا اختلاف ہوا۔ میری عمر میں بہت دفعہ میرا اور حکومت کے افسروں کا اختلاف ہوا۔ میری عمر میں کئی دفعہ جماعت کے ساتھ بھی میرا اختلاف ہوا۔ اور خدا تعالیٰ نے ہر دفعہ بلا استثناء ثابت کر دیا کہ میں ہی حق پر ہوں ۔ اب بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس بات میں کہ وہ وقت دور نہیں جب وہی زبان جو جماعت کی تعریف میں لگی ہوئی ہے وہ احمدیوں کی موت کا فتوی دے، میں ہی حق پر تھا۔ تم میں وہ لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو کہتے تھے جماعت کے لئے فضا اچھی ہے ہمیں یہ اچھے دن گزار لینے دو۔ لیکن میں کہتا تھا کہ یاد رکھو تھوڑے دنوں میں ہی یہ فضا تمہارے خلاف ہو جائے گی اور تم پچھتاؤ گے کہ یہ اچھا وقت ہم نے تبلیغ میں کیوں نہ گزارا۔ وہ دن جو آنے والے تھے آگئے ہیں اور تم میں سے کئی لوگوں کے پیروں تلے سے زمین نکل رہی ہے۔ تم میں سے بعض تو قادیان کے ہمارے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے ڈگمگا گئے تھے اور ڈگمگائے ہوئے ہیں۔ میرا اُن کو بھی یہی جواب تھا جیسے حضرت ابوبکر نے کہا تھا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مات جو تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا وہ دیکھ لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں وَ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ 1 اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ یادر کھے کہ اُس کا خدا اب بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ میں بھی یہ کہتا ہوں کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ قَادِيَانَ فَإِنَّ قَادِيَانَ قَدْ وُضِعَ فِي أَيْدِي الْمُخَالِفِينَ ۔ تم میں سے جو شخص قادیان کی پرستش کرتا تھا وہ سن لے کہ قادیان اب منی اب مخالفین کے ہاتھ میں ہے ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ