خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 176

1950ء 176 خطبات محمود دماغ خراب ہو چکا ہے کہ اس کو اور بگاڑ رہے ہو۔ اب نہ احمدیت کے متعلق انہوں نے کبھی تحقیق کی نہ کبھی غور کیا اور اپنے بھائی کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ تم اس کو بگاڑ رہے ہو۔ ہماری انہی نانی کا ایک اور واقعہ بھی بعض عزیزوں نے سنایا۔ ایک دفعہ حیدر آباد میں عورتوں کے لئے ایک نمائش منعقد ہوئی ۔ سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی نے بھی نمائش گاہ میں سلسلہ کی کتابوں کی ایک دکان کھول لی۔ وہاں نوابوں، رؤساء اور افسروں کی بیویاں آتیں اور وہ انہیں سلسلہ کی کتابیں پیش کرتیں ۔ چونکہ یہ رئیس خاندان ہے اس لئے ان کے رؤساء کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں ۔ جب ان کے خاندانوں کی مستورات وہاں آتیں تو سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی انہیں بتاتیں کہ یہ احمدیت کی کتابیں ہیں اور ان میں یہ یہ لکھا ہے اور پھر کچھ کتابیں ان کو تحفہ دے دیتیں تا کہ وہ گھر پر ان کا مطالعہ کریں۔ ایک دفعہ کسی نواب کی بیوی وہاں آئیں اور ان کے ساتھ ہماری نانی بھی تھیں کیونکہ ان کے بچے وغیرہ سب حیدر آباد رہتے تھے اور یہ بھی دلی سے حیدر آباد آ گئی ہوئی تھیں ۔ سیٹھ عبداللہ بھائی کی بیوی نے اس نواب کی بیوی کو بھی تبلیغ کی اور بتایا کہ احمدیت کیا چیز ہے اور جاتے ہوئے ایک کتاب بھی تحفہ دے دی۔ چند دنوں کے بعد جو پھر اس نواب کی بیوی کو سیٹھ عبد اللہ بھائی کی بیوی سے ملنے کا اتفاق بیوی عبداللہ کی بیوی ہوا تو وہ کہنے لگی کہ وہ جو میرے ساتھ دتی والی خاتون تھیں انہوں نے تو مجھے ایک عجیب بات بتائی۔ جب ہم یہاں سے واپس گئیں تو وہ مجھے کہنے لگیں کہ تم نے اپنا وقت کیوں ضائع کیا۔ میری تو اپنی بھانجی ان کے ہاں بیاہی ہوئی ہے۔ دکان ہے دکان ، مذہب تھوڑا ہی ہے۔ یوں دنیوی طور پر وہ ہم سے بڑی ۔ رکھا محبت کرتی تھیں ۔ بات صرف اتنی تھی کہ مولوی نے ان کے کان میں یہ ڈال رکھا تھا کہ یہ محض ایک دکانداری ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ رشتہ داری بھی تھی ، تعلق بھی تھا۔ بعض ایسے رشتہ دار بھی تھے جو ہم سے بات تک نہیں کرتے تھے۔ مگر وہ ایسی تھیں کہ ہم دتی جاتے تو انہیں کے گھر میں ٹھہرتے۔ مگر ان کے دل میں یہی یقین تھا کہ یہ ایک دکان ہے۔ مکہ میں بھی دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار آپ کے متعلق یہی کہا کرتے تھے کہ اس نے ایک دکان کھول رکھی ہے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ عورتیں جو باتیں سنتی ہیں اُسے ایسا پختہ باندھ لیتی ہیں کہ ان کو اس سے ہٹانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اور وہ فائدہ جو ان کی پختگی کا ہے اس سے دین بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ عورت کی پختگی سے شیطان تو فائدہ اٹھائے اور خدا فائدہ نہ اٹھائے ۔ اگر وہ نہیں اُٹھاتا تو یہ