خطبات محمود (جلد 31) — Page 171
1950ء 171 خطبات محمود حاصل ہو سکتی ہے وہ جمعہ اور عیدین کے خطبات میں شامل ہو کر ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ مثلاً یہی جو میرا خطبہ ہے اس میں سے اگر خالص امور عورتوں کے لئے نکالے جائیں تو کئی نکالے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ایک امر میں نے یہی بیان کیا ہے کہ اسلام نے عورت کا اصل فرض اس کے بچوں کی تعلیم و تربیت رکھا ہے۔ آخر انعام کسی سخت کام پر ہی ملا کرتا ہے۔ عورتیں کہتی ہیں کہ یہ بڑا تلخ کام ہے کہ ہم گھر میں رہیں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا فرض ادا کریں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ تلخ کام ہے تو تلخ کام پر ہی تو انعام ملا کرتا ہے۔ کیا تم سجھتی ہو کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس بات پر تمہیں انعام دے گا کہ تم نے کتنے سیر رس گلے کھائے تھے؟ اگر تم کہو گی کہ میں نے دس سیر رس گلے کھائے تھے تو خدا تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ لے جاؤ اس عورت کو جنت کے اونچے طبقہ میں کیونکہ اس نے بڑے رس گلے کھائے تھے۔ پھر ایک غریب عورت اس کے سامنے پیش ہوگی اور وہ پوچھے گا بتاؤ تم نے کتنے رس گلے کھائے؟ اور وہ کہے گی خدایا ! میں نے تو ایک دن صرف ایک رس گلا چکھا تھا۔ اس پر خدا کہے گا لے جاؤ اس کو جنت کے ادنیٰ طبقہ میں کیونکہ اس نے صرف ایک رس گلا چکھا تھا۔ پھر ایک اور عورت پیش ہوگی گلا اور خدا اس سے پوچھے گا کہ بتاؤ تم نے کتنے رس گلے کھائے؟ اور وہ کہے گی خدایا! میں نے تو رس گلے کی م نے اس کھلے اوروہ میں کبھی شکل تک نہیں دیکھی۔ اس پر خدا کہے گا ڈالو اس کمبخت کو دوزخ میں کیونکہ اس نے رس گلا دیکھا تک خدا گا اس کو کیونکہ اس نے رس نہیں۔ اب یا تو یہ سمجھو کہ قیامت کے دن ان بنیادوں پر فیصلہ ہوگا۔ اور اگر تم مجھتی ہو کہ ان باتوں پر خدا تعالیٰ کے انعامات نہیں ملیں گے بلکہ قربانیوں کے مطابق انعام ملیں گے تو اگر یہ صحیح ہے کہ عورت کی یہ زندگی بہت تکلیف دہ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عورت کا انعام بھی بہت بڑا ہے۔ بھی بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ مرد اپنے لئے اور قانون بنا لیتے ہیں اور عورت کے لئے اور قانون بنا دیتے ہیں۔ اول تو یہ صحیح نہیں کیونکہ قرآن خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ قانون ہمارا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا بنا ہوا قانون ہے۔ دوسرے دنیا میں ہر شخص اوروں کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ وہ آرام میں ہیں اور اپنے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ میں سب سے زیادہ تکلیف اٹھا رہا ہوں ۔ مرد کے ذمہ جو کمائی کی ذمہ داری ڈالی گئی یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ۔ ایک غریب آدمی جس کی کچھ بھی تعلیم نہیں ہوتی کس طرح رات اور دن ایک کر دیتا ہے صرف اس لئے کہ وہ ایک یا دو روٹیاں اپنے بیوی بچوں کے لئے مہیا کرے۔ پھر وہ روزی کمانے کے لئے لڑائیوں میں جاتا ہے اور موت کے منہ میں اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے۔ بے شک