خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 144

1950ء 144 21 خطبات محمود اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا کا نام ضرور لیا کرے فرموده یکم ستمبر 1950 ء بمقام حیدر آباد سندھ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: چونکہ مجھے کھانسی کی سخت تکلیف ہے اس لئے میں خطبہ بھی مختصر کروں گا اور چونکہ میں سفر پر ہوں اور نمازیوں کی اکثریت بھی مسافر ہے اس لئے میں نماز بھی جمع کر کے پڑھاؤں گا۔ پہلے جمعہ کی نماز ہو گی اور پھر اس کے بعد عصر کی نماز عصر کی نماز ہم قصر کریں گے لیکن جو مقامی لوگ ہیں اُن کو چاہیے کہ جب میں عصر کی نماز کا سلام پھیروں تو وہ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعتیں پوری کر لیں کیونکہ ان پر چار رکعت فرض ہیں اور ہم پر دو رکعت فرض ہیں ۔ اور چونکہ میں نے آج اختصار کے ساتھ خطبہ پڑھنا ہے اور قصر نماز کا ذکر آ گیا ہے اس لئے میں خطبہ میں اس مسئلہ کو لے لیتا ہوں ۔ ہمارے ہاں سفر کی نمازوں کے متعلق قصر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ درحقیقت ایک غلط محاورہ ہے جو استعمال ہو رہا ہے۔ قصر کے معنی چھوٹا کرنے کے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سفر میں نماز قصر نہیں ہوتی بلکہ حضر میں جب انسان اپنے گھر پر موجود ہو نماز زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے دو ہی رکعت نماز ہوتی تھی بعد میں دو کی بجائے چار رکعتیں کر دی گئیں ۔ 1 یعنی ظہر ، عصر اور عشاء کی نمازوں میں دو دو رکعتیں بڑھادی گئیں ۔ صبح کی نماز اسی طرح رہی ۔ اسی طرح مغرب کی نماز پس قصر کا سوال در حقیقت سفر کے ساتھ پیداہی نہیں ہوتا کیونکہ جتنی نماز پہلے پڑھی