خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 114

خطبات محمود اور اس کے نیچے لکھ دیا 114 1950ء یومے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید لہ یہ کم تھا اس لئے میں نے یہ اشتہار دے دیا ہے اور پھر دواشتہار چھپوا کر ان کی ایک کا پی آپ کی خدمت میں بھیجوا دی ۔ حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں قادیان آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بغیر کسی تمہید کے مجھے فرمانے لگے مولوی صاحب ! ایمان کے لحاظ سے کس چیز کو مقدم رکھنا چاہیے؟ آپ نے کہا قرآن کریم کو ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اس کے بعد دوسری چیز کونسی ہے جس کو مقدم رکھنا چاہیے؟ آپ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اگر ان دونوں سے بھی کوئی بات نہ ملے تو کیا کیا جائے؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا اگر ان دونوں سے کوئی بات نہ ملے تو خدا تعالیٰ نے جو عقل بخشی ہے وہ اُس سے کام لے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہی حقیقت ہے۔ حضرت خلیفہ مسیح الاول فرماتے تھے اس پر مجھے وہ اشتہار یاد آ گیا اور میں اپنے آخری فقرہ پر نادم ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے جو چاروں مقامات ہیں یہ سارے کے سارے قابلِ فخر ہیں۔ لیکن جو شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے آپ کو پہلے پیش کر دیتا ہے خدا تعالیٰ اُس کو بلند مقام عطا کرتا ہے۔ ورنہ ظاہری قربانیوں کے لحاظ سے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ دونوں نے قربانیاں کیں۔ لیکن بٹوں کے خلاف سب سے پہلے جس شخص نے آواز بلند کی وہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود تھا۔ صحابہ نے آپ کی صرف نقل کی اور آپ کی آواز کے پیچھے اپنی آواز بلند علیہ کا کی اور کے پیچھے اپنی کاہی کی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ه در کوئے تو اگر سر عشاق را زنند اول کے کہ لا تعشق زندم ۔ 6 یعنی اگر تیرے کوچہ میں مارے جانے کا سوال پیش آ جائے تو اس کے لئے سب سے پہلے میری آواز ہی اٹھے گی۔ یہی چیز ہے جو وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا میں بیان کی گئی ہے۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو ایسے مقام پر لے آؤ کہ لوگ تمہیں قتل کر دیں یا تمہیں ملک بدر کر دیں۔ پر لوگ کردیں یا کر چنانچہ فرماتا ہے اگر ہم ان پر یہ بات فرض کر دیتے کہ وہ اپنے نفوس کو قتل کریں یا بے وطن ہو جائیں تو وہ