خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 108

1950ء 108 خطبات محمود کالج میں پروفیسر لگا دیا جائے تو کیا گورنمنٹ اُسے پروفیسر شپ دے دے گی یا پاگل قرار دے کر پاگل خانہ بھیجے گی اسی طرح اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ مستحق عَلَيْهِمْ کے لئے اگر کچھ شرطیں مقرر ہیں تو ہمیں پہلے ان شرطوں کو پورا کرنا ہو گا تب ہم انعام کے ہوں گے ورنہ نہیں ۔ مثلاً ایم اے فرسٹ ڈویژن یا سیکنڈ ڈویژن کے ساتھ آگے کے ساتھ اگر پروفیسری ملتی ہے تو اسے حاصل کرنے کے لئے پہلے ایم اے فرسٹ ڈویژن یا سیکنڈ ڈویژن پاس کرنا ضروری ہوگا ۔ یا اگر کسی خاص سروس کے بعد ہائی آفیسرز کا سلیکشن ہوتا ہے تو اسے ہائر آ فیسرز پوسٹ حاصل کرنے کے لئے اُس خاص سروس سے گزرنا ہو گا اور اگر وہ ہائر پوسٹ کے لئے درخواست دے گا تو فورا اس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ لاؤ سرٹیفکیٹ ۔ لیکن مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ اعلیٰ درجات حاصل کرنے کی بجائے ایک ادنی ترین چیز پر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر نماز میں یہ دعا تو مانگتے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ لیکن اگر اُن کے سامنے منعم علیہ گروہ کا ذکر کیا جائے تو وہ اس گروہ کے انعامات کا اپنے آپ کو مستحق نہیں سمجھتے۔ گویا ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہر درجہ تعلیم کے لوگ کسی سکول میں جائیں اور ہیڈ ماسٹر سے کہیں کہ ہمیں پہلی جماعت میں داخل کر لیا جائے ۔ یا اگر کسی جگہ بڑے بڑے شاعر ، ادیب اور پڑھے لکھے لوگ سکول میں جائیں اور ہیڈ ماسٹر سے کہیں کہ ہمیں پہلی جماعت میں داخل کر لیا جائے تو یہ کیسی مضحکہ خیز بات ہوگی ۔ اسی طرح مسلمان دعا تو وہ مانگتے ہیں جس کے نتیجہ میں صدیقیت اور ماموریت کا مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ انہیں صرف صالحیت کا مقام دیا جائے اگلے درجات نہ دیئے جائیں ۔ گویا ساری عمر وہ پہلی جماعت میں ہی بیٹھے رہیں اگلی جماعت میں انہیں ترقی نہ دی جائے۔ اس کے مقابلہ میں ہماری جماعت کی یہ کیفیت ہے کہ وہ صرف انتہائی مقام کو دیکھتی ہے نچلے درجوں کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں ہوتی ۔ حضرت خلیفة المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ میں جب لکھنو گیا تو وہاں ایک بڑے بھاری طبیب تھے۔ ان کے میرے بڑے بھائی کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ اس لئے میں اُن کے پاس گیا اور کہا آپ مجھے طب پڑھا دیں۔ انہوں نے کہا میں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ میں کسی کو طب نہیں پڑھاؤں گا۔ میرا فلاں شاگرد اچھا خاصا طبیب ہے تم اُس سے پڑھ لو۔ میں نے کہا میں تو صرف آپ سے ہی طب