خطبات محمود (جلد 31) — Page 105
1950ء 105 17 خطبات محمود اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا کرتے وقت ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس دعا میں ہم کیا مانگتے ہیں اور مانگنے کی شرائط کو ہم پورا کرتے ہیں یا نہیں ۔ (فرمودہ 28 جولائی 1950ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو - ہر وہ مسلمان جو نماز پڑھتا ہے وہ نماز میں متعدد دفعہ سورۃ فاتحہ کی تلاوت بھی کرتا ہے جس کی اہمیت نماز کے لئے اتنی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لَا صَلوةَ إِلَّا بِالْفَاتِحَةِ 1 سورۃ فاتحہ کے پڑھے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔ یہاں در حقیقت اکثریت مراد ہے ورنہ بعض حالتوں میں بغیر سورۃ فاتحہ کے بھی رکعت ہو جاتی ہے۔ جیسے نماز ہورہی ہو اور کوئی شخص رکوع میں مل جائے تو اسکی رکعت ہو جائے گی حالانکہ اس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی ہوگی ۔ لیکن عام قاعدہ یہی ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ علاوہ ازیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ لا صَلوةَ إِلَّا بِالْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَة - جب تک ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے نماز نہیں ہوتی ۔ پس اگر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ فوت ہو جاتی ہے تو ہم کہیں گے کہ ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ معاف ہوگئی۔ گویا قلت کثرت کے تابع ہو گئی ۔ ورنہ نماز سورۃ فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی ۔ فرض کرو ایک شخص آخر رکعت میں شامل ہو جاتا ہے تو کیا وہ دوسری رکعات میں بھی سورۃ فاتحہ پڑھے گا یا نہیں؟ جب وہ دوسری رکعات