خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 73

1949ء 73 خطبات محمود میں نے انہیں دیکھتے ہی کہا اچھا ! آپ احمدی ہیں؟ وہ فوراً سمجھ گیا اور کہنے لگا کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ سوائے احمدیوں کے اور کوئی داڑھی نہیں رکھتا؟ میں نے کہا مجھے تو انہی لوگوں کی داڑھیاں نظر آتی ہیں جو احمدی ہیں ۔ اُس وقت وہاں ایک ایسے شخص بھی بیٹھے تھے جن کی داڑھی نہیں تھی یا بہت چھوٹی تھی اور جو ہماری جماعت سے نہیں بلکہ غیر مبائعین سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں دیکھ کر کہنے لگے ہمیں بھی باقی احمدیوں کی طرح داڑھی بڑھانی چاہیے یا داڑھی رکھ لینی چاہیے۔ نا چاہیے یا داری رکھ ہی چاہیے۔ اب دیکھو ! داڑھی رکھنا بظاہر کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر صرف اسی وجہ سے اکثر احمدی اڑھی رکھنا بظاہر منی چھوٹی سی بات ہے پہچانے جاتے ہیں۔ اگر باقی باتیں بھی مل جائیں تو کس طرح یہ ایک سائن بورڈ ہوگا یہ بتانے کے لیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو روشناس کرانے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ صرف ان کو دیکھنا ہی ان کو پہچان لینا ہے۔ اور اس سے بڑی شان کسی قوم کی اور کیا ہو سکتی ہے کہ لوگ اس کے افراد کو دیکھ کر ، اُن کے لباس کو دیکھ کر ، اُن کی ظاہری شکل وصورت کو دیکھ کر ، اُن کے اخلاق و آداب کو دیکھ کر، ان کے بلند کیریکٹر اور کردار کو دیکھ کر فوراً پہچان لیں کہ یہ لوگ فلاں جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بابرکت ہوں گے وہ نوجوان جو اپنے عمل سے اس قسم کے سائن بورڈ کا کام دیں گے اور خوش قسمت ہوگی وہ جماعت جس کے افراد کو روشناس کرانے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہ ہو الفضل 14 اگست 1949 ء ) بلکہ ان کو دیکھنا ہی اُن کو پہچان لینا ہو۔ 1 : الماعون : 5 2 : بخاری کتاب الاطمعة باب التسمية على الطعام والاكل باليمين میں یہ الفاظ ہیں "كُلُّ بِيَمِينِكَ وَكُلِّ مِمَّا يَلِيُكَ 3 : دغدغہ: ڈر، خوف ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد 9 صفحہ 267۔ 1988ء)