خطبات محمود (جلد 30) — Page 45
1949ء 45 خطبات محمود اجازت نہیں دیتیں اور چونکہ کوئی شخص بغیر اجازت کے کسی کے گھر نہیں جا سکتا اس لیے یہ براہ راست خالہ سے معافی نہیں مانگ سکتا۔ اس پر صحابہ نے فیصلہ کیا کہ چلو کسی دن ہم بہت سے دوست مل کر جاتے ہیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی درخواست کرتے ہیں۔ اس نوجوان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ جب سب کو اندر آنے کی اجازت ملی تو ہمارے ساتھ اس کو بھی اجازت مل جائے گی اور پھر یہ براہ راست اپنی خالہ سے معافی مانگ لے گا۔ چنانچہ بہت سے صحابہ جن میں حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی تھے اکٹھے ہوئے۔ ابن زبیر کو انہوں نے اپنے ساتھ لیا اور حضرت عائشہؓ کے دروازہ پر جا کر کہا کہ ہا کہ ہم اُم المومنین کی خدمت رمت میں آپ سے کچھ بات کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کون ہیں؟ حضرت عبدا رت عبد الرحمن بن عوف نے عرض کیا عبدالرحمن بن عوف اور ساتھ کچھ اور صحابہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت ہی محبوب صحابہ میں سے تھے۔ جب حضرت عائشہ نے سنا کہ عبدالرحمن بن عوف اور ان کے ساتھ کچھ اور صحابہؓ مل کر آئے ہیں تو انہوں نے پردہ لا پردہ لڑکا یا اور آپ ایک طرف بیٹھ لیں اور حکم دیا کہ اندر آ جاؤ۔ حضرت عائشہ کو پتا نہیں تھا کہ اس ”ہم میں ابن زبیر بھی شامل ہے ۔ (یہ) عبداللہ بن زبیر مشہور صحابی نہیں تھے ان کے بھائی تھے ) جب اور صحابہ کو اندر آنے کی اجازت مل گئی تو چونکہ ابن زبیر بھی اُن کے ساتھ ہی تھے اس لیے ان کے لیے کسی علیحدہ اجازت کی ضرورت نہ رہی اور وہ بھی اندر آگئے ۔ صحابہ تو ایک طرف بیٹھ گئے ! گئے اور ابن زبیر اندرج زبیر اندر جا کر اپنی خالہ سے چمٹ گئے اور رونے لگے اور اصرار کرنے لگے کہ مجھے معاف کر دیا جائے ۔ خالہ آخر خالہ ہی تھیں ۔ صحابہ نے بھی باہر سے عرض کیا کہ ہم اسی سفارش کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا میں معاف تو کر دیتی ہوں مگر میں نے جب یہ عہد کیا تھا کہ میں اپنے بھانجے کو آئندہ اپنے گھر آنے کی اجازت نہیں دوں گی تو میرے دل میں یہ خیال بھی گزرا تھا کہ آخر یہ میرا بھانجا ہے اور لوگوں نے اس کے متعلق میرے پاس سفارشیں بھی کرنی ہیں شاید کسی وقت مجھے معاف ہی کرنا پڑے۔ اس لیے میں نے ساتھ ہی یہ عہد بھی کیا تھا کہ اگر میں نے اسے معاف کیا تو اس کے بعد میں اپنی قسم کے کفارہ کے طور پر کچھ صدقہ دے دوں گی مگر میں نے کچھ کا لفظ کہا تھا صدقہ کی تعیین نہیں کی تھی کہ وہ کتنا ہوگا۔ اور چونکہ دل میں شبہ رہ سکتا ہے کہ ممکن ہے ابھی پورا صدقہ رض