خطبات محمود (جلد 30) — Page 398
خطبات محمود 398 1949ء بھی یہی رفتار ترقی رہتی تو تیرہ سو سال میں صرف تمیں ہزار مسلمان ہوتے ۔ مگر اب تو تیس لاکھ بھی نہیں تیں کروڑ بھی نہیں دنیا میں ساٹھ کروڑ مسلمان ہیں۔ کتنے گندے ہی سہی مگر اسلام کا نام تو لیتے ہیں ۔ لیکن اگر وہی رفتار ترقی رہتی جو پہلے تیرہ سال میں حاصل ہوئی تو آج تیرہ سو سال کے بعد صرف تیں ہزار مسلمان ہوتا لیکن ہیں ساٹھ کروڑ یعنی میں ہزار گنا زیادہ ہیں۔ گویا جس قدم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تیرہ سالوں میں چلے تھے بعد میں آنے والے سالوں میں اُس سے ہیں ہزار گنا زیادہ چلے لیکن میں اس میں بھی غلطی کر رہا ہوں ۔ پچھلے پانچ سو سال سے تو مسلمان گر رہے ہیں ۔ اس لیے مسلمانوں کی جو تعداد بڑھی وہ اُس ترقی کا نتیجہ ہے جو انہوں نے پہلی تین چار صدیوں میں کی ۔ اگر مسلمانوں کی موجودہ ترقی کو پہلی چند صدیوں پر پھیلایا جائے تو گویا جس قدم کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تیرہ سالوں میں چلے تھے بعد میں آنے والے سالوں میں اُس سے ہمیں لاکھ گنا زیادہ چلے ۔ اسی رنگ میں اگر ہماری ترقی ہو اور بیس لاکھ کو ہماری موجودہ تعداد سے ضرب دو تو دنیا پر کوئی آدمی باقی نہیں رہ جاتا۔ دنیا کی ساری آبادی دو ارب ہے۔ گویا اگر موجودہ حالت سے ہم ہیں لاکھ گنا زیادہ ترقی کریں تو دس کھرب ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں موجودہ حالت سے قریباً ساڑھے چار ہزار گنا زیادہ رفتار کی ضرورت ہے۔ بیس لاکھ گنا زیادہ رفتار کی نہیں ۔ غرض ہم اپنی آئندہ ترقی کو موجودہ رفتار پر قیاس نہیں کر سکتے لیکن بہر حال فتح کے لیے کچھ وقت تو چاہیے ۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی ترقی میں تین سو سال لگے تھے۔ ہمارے مسیح محمدی ہیں موسوی نہیں ۔ اس لیے اگر اُس سے آدھا زمانہ بھی لے لو تو ایک سو پچاس سال بنتے ہیں۔ دوسو پچھتر سال میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی جماعت کو ایک ملک یعنی روم کی حکومت ملی تھی ۔ اگر اس مدت کا نصف لے لیں تو ایک سو سینتیس سال میں ہمیں ایک حکومت مل سکتی ہے۔ ہماری جماعت پر ساٹھ سال گزر چکے ہیں تو گویا آئندہ 77 سال کے عرصہ میں ہمیں ایک حکومت مل جانی چاہیے۔ ہمارے ہاں اوسط عمر تمہیں سال ہے۔ لیکن اگر اوسط عمر پچیس سال لے لی جائے تو 77 سال میں تین نسلیں ہوئیں اور موجودہ نسل کو ملا کر چار ہوئیں ۔ گویا چار نسل میں ہم چھوٹی سے چھوٹی ترقی کر سکتے ہیں ۔ مگر ایک حکومت کا مل جانا کوئی ترقی نہیں۔ ویسے اگر خدا تعالیٰ جلد ترقی دے دے تو دے دے ور نہ یہ چیز ایسی ہے جو ہمیں گھبرا دیتی ہے کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی ترقی کے لیے ہمیں چار نسلوں کی