خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 391

1949ء 391 خطبات محمود ایک مچھر کی بھی نہیں۔ مچھر کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن پھر بھی انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اگر یہ بیچ قائم رہا تو جب جماعت کمزور ہو جائے گی اُس وقت اُسے نقصان پہنچائے گا۔ اس لیے ہمارا یہ فرض ہے کہ نہ صرف ہم اپنی اصلاح کریں بلکہ ایسے لوگوں کی بھی اصلاح کریں جو جماعت کے لیے آئندہ کسی وقت بھی مضر ہو سکتے ہیں۔ پس ان لوگوں کو کچلنا ہمارا فرض ہے خواہ ان کے ساتھ ان سے ہمدردی رکھنے والے بعض بڑے لوگ بھی گچلے جائیں۔ اور ہر مخلص اور سچے مبائع کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بارہ میں میری مدد کرے اور ایسے لوگوں کے متعلق مجھے اطلاع دے۔ اور اگر کوئی احمدی میرے اس اعلان کے بعد اس کام میں کوتاہی کرے گا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مومن نہیں ہوگا ۔ بلکہ اس کی بیعت ایک تمسخر بن جائے گی ۔ کیونکہ اس نے جان و مال اور عزت کے قربان کرنے کا وعدہ کیا لیکن جب خلیفہ وقت نے اُسے آواز دی تو اُس نے کسی کی دوستی کی وجہ سے اس آواز کا جواب نہیں دیا۔ پس ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ منافقین کی اطلاع مجھے دے ۔ تم اس بات سے مت ڈرو کہ سو میں سے پچاس احمدی نکل جائیں گے۔ تم پچاس سے ہی سو بنے ہو بلکہ تم ایک سے سو بنے ہو۔ پھر اگر سو میں سے پچاس نکل جائیں گے تو کیا ہوا ؟ پس یہ مت خیال کرو کہ اُن لوگوں کے نکل جانے سے جماعت کو کوئی نقصان پہنچے گا ۔ گھاس کاٹ دینے سے باغ سے سبزہ تو کم ہو جاتا ہے لیکن درخت نشو و نما پاتا ہے اور باغ زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ الفضل یکم دسمبر 1949ء) 1 : الاحزاب : 70 2 : وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَى مِنْ بَعْدِهِ مِنْ حَلِيْهِمْ عِجْلًا جَسَدًا (الاعراف: 149) 3 : المائدة : 25 4 : وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّصِحِينَ (الاعراف:22)