خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 386

1949ء 386 خطبات محمود آ جاتا ہے؟ کیا تم نے کبھی ایسا باغ لگایا ہے جس میں تھو ہر نہ نکل آئی ہو؟ کیا تم نے کبھی کوئی فصل ہوئی ہے جس میں آک اور گھاس نہ نکل آیا ہو؟ جو زمین بھی زیر کاشت آتی ہے اُس میں تھوہر ، آک اور گھاس نکل آتا ہے۔ اور جس طرح تم ایک باغ لگاتے ہو تو اس کے ساتھ آک تھوہر اور گھاس نکل آتا ہے اسی طرح روحانی سلسلہ کے ساتھ ساتھ منافقت بھی خود بخود آ جاتی ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح یہ غیر روحانی سلسلہ کے ساتھ ساتھ پیدا ہو جاتی ہے۔ گھاس درخت کے سایہ کے نیچے اور سڑکوں کے کناروں پر خود بخود نکل آتا ہے۔ اسی طرح باغوں میں بھی یہ خود بخود آتا ہے۔ غرض گھاس ہر جگہ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہاں پر بھی جہاں کوئی نگران نہ ہو اور وہاں پر بھی جہاں زیر کاشت زمین ہونے کی وجہ سے اس پر نگران یا مالی موجود ہو۔ اسی طرح منافق بھی آپ ہی آپ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ یہ وہ پودا ہے جو نہ کو ہستانی، نہ بستانی اور نہ ہی یہ پودا بیا بانی ہے۔ یہ باغوں میں بھی اُگ آتا ہے، یہ کوہستانوں میں بھی اُگ آتا ہے یہ بیابانوں میں بھی اُگ آتا ہے۔ اور جس طرح ایک اچھا باغبان اپنے باغ کی حالت کو اُس وقت تک اچھا نہیں رکھ سکتا جب تک کہ وہ وقتاً فوقتاً گھاس کو کھود کر باغ سے مٹا نہ ڈالے اسی طرح کوئی جماعت اُس وقت تک ترقی نہیں کرتی جب تک کہ اُسے وقتاً فوقتاً منافقین سے صاف نہ کیا جائے۔ جو باغبان یہ خیال کر لیتا ہے کہ میں نے تو آم بوئے ہیں اس لیے آم کے علاوہ یہاں کوئی اور چیز پیدا نہیں ہو سکتی وہ احمق ۔ ہے۔ جو زمیندار یہ خیال کر لیتا ہے کہ میں نے صرف گندم بوئی ہے یا صرف کپاس ہوئی ہے اس لیے گندم اور کپاس کے علاوہ یہاں کوئی اور چیز پیدا نہیں ہو سکتی وہ زمیندار احمق ہے۔ صرف گندم یا کپاس بونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں گھاس نہیں اُگ سکتا ۔ گھاس خود بخود اگ آتا ہے۔ اس کا بیج بونے کی ضرورت نہیں۔ جو باغبان یہ خیال کر لیتا ہے کہ میں نے صرف آم یا سنگترے کا درخت بویا ہے یا جو زمیندار یہ خیال کر لیتا ہے کہ میں نے صرف گندم یا کپاس بوئی ہے گھاس کہاں سے آ جائے گا اور اس سے غافل رہتا ہے وہ اپنی کم علمی کا ثبوت دیتا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ اگر وہ اپنی فصل کی حفاظت کرنا چاہتا ہے تو اسے گوڈائی کر کے زائد پودوں کو تلف کرنا پڑے گا ۔ اور اگر کسی نے باغ لگایا۔ ہے تو اسے وقتاً فوقتاً گھاس کو اُکھاڑ کر پھینکنا پڑے گا۔ اچھے باغبان سال میں چھ دفعہ باغ کی گوڈائی کرتے ہیں تا گھاس نکل جائے ۔ کم از کم تین دفعہ تو گوڈائی کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح زندہ جماعتوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً منافقوں کو نکالتی رہیں کیونکہ یہ گھاس ہیں، یہ