خطبات محمود (جلد 30) — Page 332
1949ء 332 خطبات محمود لوگوں تک انہوں نے احمدیت کا پیغام پہنچایا بلکہ ملک کے جو چوٹی کے آدمی ہیں ان کو بھی وہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ ابھی ڈاکٹر حصہ 1 جو انڈونیشیا کے وزیر اعظم ہیں ڈچ حکومت سے معاہدہ کرنے کے لیے ہالینڈ گئے ہمارا مشنری ان سے ملنے کے لیا گیا تو ڈاکٹر حصہ نے فوراً کہا کہ میں آپ کی جماعت کو خوب جانتا ہوں ، آپ کے مبلغ مجھ سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ہمیں تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مبلغ ملک کے کے چوٹی کے آدمیوں تک بھی پہنچتے اور انہیں احمدیت کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ پس میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمارے نوجوان قطعی طور پر ناکام رہے ہیں۔ ہمارے نو جوانوں میں سے ایک طبقہ ایسا ہے جو نہایت اچھا کام کر رہا ہے۔ امریکن مشن کو خلیل احمد صاحب ناصر نے ، انگریزی مشن کو مشتاق احمد صاحب باجوہ نے اور سوئٹزر لینڈ کے مشن کو شیخ ناصر احمد صاحب نے عمدگی سے سنبھالا ہوا ہے۔ جرمنی کے مشن کی مشکلات اب شروع ہو رہی ہیں۔ پہلے اس مشن میں ایسے آدمی آملے تھے جو سمجھتے تھے کہ پاکستان اور ہندوستان مالدار ملک ہیں ۔ ہم اس مشن میں شامل ہو کر ان ممالک سے کمائی کر سکیں گے مگر جب ان پر حقیقت کھلی کہ یہ تو قربانی کا مطالبہ کرنے والی جماعت ہے تو ان کا گروہ کا گر وہ الگ ہو گیا ۔ اب عبداللطیف صاحب جو وہاں کے مبلغ ہیں اپنے طور پر جماعت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ خاموش طبیعت نو جوان ہے مگر اچھا کام کرنے والا ہے۔ پس میرا یہ منشا نہیں کہ ہمارے نوجوانوں نے ہر موقع پر ناکامی اور نامرادی کا طریق اختیار کیا۔ ان میں سے بعض نے نہایت اچھا نمونہ دکھایا ہے خصوصاً اُن نوجوانوں نے جو غیر ممالک میں گئے ۔ مگر جو نوجوان ہمارے مرکز میں کام پر لگے ہوئے ہیں اُن میں سے اکثر ایسے نکلے ہیں کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں لڑائی جھگڑے میں ہی اپنا وقت گزارتے رہتے ہیں اور ان کی بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کوئی عہدہ مل جائے ، کوئی اختیار حاصل ہو جائے حالانکہ عہدہ اور اختیار سے کام نہیں چلتا۔ کام کرنے سے کام ہوا کرتا ہے۔ ان میں سے بھی بعض نوجوان نہایت اچھا کام کر رہے ہیں۔ مثلاً میاں عزیز احمد جو پہلے نائب محاسب کے طور پر کام کیا کرتے تھے نہایت اچھے کا رکن ہیں اور بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں۔ جہاں تک قابلیت کا سوال ہے چودھری اعجاز نصر اللہ خاں بھی سمجھدار نوجوان ہیں مگر ابھی تک ان میں محنت کی عادت پیدا نہیں ہوئی۔ چونکہ انہوں نے امیر گھرانے میں پرورش پائی ہے اس لیے محنت کے عادی نہیں لیکن بہر حال ان میں قابلیت موجود ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ