خطبات محمود (جلد 30) — Page 292
خطبات محمود 292 1949ء کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ان کا صرف اچھے نمبروں پر پاس ہو جانا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کی دماغی تربیت اس رنگ کی ہو کہ جب وہ نماز پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح نماز پڑھیں اور جب کتاب پڑھیں تو عقلمند انسان کی طرح کتاب پڑھیں ۔ یہ ابہ کتاب پڑھیں ۔ یہ ایک الگ مضمون ہے کہ عقل اور ذہانت کی ترقی کس طرح ہوسکتی ہے۔ میں اس وقت صرف اصولی طور پر اس امر کی طرف کالج کے عملہ کو توجہ دلاتا ہوں ۔ اگر وہ ان امور کا خیال رکھیں گے تو لوگوں کے اندر خود بخود یہ احساس پیدا ہو گا کہ یہ کالج اپنے اندر بعض نمایاں خصوصیات رکھتا ہے جن سے ہمیں اپنے بچوں کو محروم نہیں رکھنا چاہیے۔ اب میں اپنے خطبہ کو ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ لاہور کی جماعت بھی اور بیرونجات کی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنے لڑکوں کو تعلیم الاسلام کا لج میں داخل کرنے کی کوشش کریں گی اور کالج کے پرنسپل اور پروفیسر بھی جنہوں نے مجھ سے درخواست کر کے یہ چاہا ہے کہ میں لوگوں کو یہ تحریک کروں کہ وہ ان کے لیے اپنی اولاد کی قربانی کریں اپنے اندر زیادہ سے زیادہ قربانی کا مادہ پیدا کر کے لڑکوں کی تعلیم کو اعلیٰ معیار تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔ کیونکہ جب ایک طرف وہ لوگوں سے قربانی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف میرا وہ میرا بھی حق ہے اور دوسرے لوگوں کا بھی حق ہے کہ وہ ان سے یہ کہیں کہ آپ بھی کچھ قربانی کریں تا ہماری اور آپ کی قربانیاں دونوں مل کر نیک نتائج پیدا کریں اور ہماری آئندہ نسلیں اسلام کی فدائی اور اس کا جاں نثارگر وہ ثابت ہوں ۔ وَ آخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ “۔ 1 : الفاتحة : 6 ۔ )الفضل 14 ستمبر 1949ء( 2 : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحريم: 7) 3 : تفسیر روح المعانی از علامه الوسی - سورة المائدة آیت 3 جلد 3 صفحہ 233 - بیروت لبنان 2005ء 4 : سِيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ (الفتح : 30)