خطبات محمود (جلد 30) — Page 200
1949ء 200 خطبات محمود ایک اور چھوٹی سی بستی میں نماز با جماعت ہوتی ہے باقی لوگ نمازیں پڑھتے تو ہیں لیکن ان میں اتنا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے تیار نہیں اور اختلاف اتنا بڑھ چکا ہے کہ وہ کسی کی بات سنے کو تیار نہیں۔ عرب کے جاہل لوگ جو پانچ پانچ ، چھ چھ ماہ سے مسلمان ہوئے ہیں مطالبہ کر رہے ہیں کہ زکوۃ معاف کر دی جائے ۔ یہ لوگ زکوۃ کے مسئلہ کو سمجھتے تو ہیں نہیں۔ اگر ایک دو سال کے لیے انہیں زکوٰۃ معاف کر دی جائے تو کیا حرج ہے؟ گویا وہ عمر جو ہر وقت تلوار ہاتھ میں لیے کھڑا رہتا تھا اور ذراسی بات بھی ہوتی تو کہتا يَا رَسُوْلَ الله ! حکم ہو تو اس کی گردن اڑا دوں وہ ان لوگوں سے اتنا مرعوب ہو جاتا ہے، اتنا ڈر جاتا ہے، اتنا گھبرا جاتا ہے کہ ابوبکر کے پاس آکر اُن سے درخواست کرتا ہے کہ ان جاہل لوگوں کو کچھ عرصہ کے لیے زکوٰۃ معاف کر دی جائے ہم آہستہ آہستہ انہیں سمجھا لیں گے۔ مگر وہ ابوبکر جو اتنا رقیق القلب تھا کہ حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں ایک دفعہ انہیں مارنے کے لیے تیار ہو گیا تھا اور بازار میں ان کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے اُس نے اُس وقت نہایت غصے سے عمر کی طرف دیکھا اور کہا عمر ! تم اُس چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو خدا اور اس کے رسول نے نہیں کی۔ حضرت عمرؓ نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن یہ لوگ حدیث العہد ہیں، دشمن کا لشکر مدینہ کی دیواروں کے پاس پہنچ چکا ہے کیا یہ اچھا ہو گا کہ یہ لوگ بڑھتے چلے آئیں اور ملک میں پھر طوائف الملو کی کی حالت پیدا ہو جائے یا یہ مناسب ہوگا کہ انہیں یک دو سال کے لیے زکوۃ معاف کر دی جائے؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا خدا کی قسم! اگر دشمن مدینہ اندر ٹھس آئے اور اس کی گلیوں میں مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دے اور عورتوں کی لاشوں کو کتے گھسیٹتے پھریں تب بھی میں انہیں زکوۃ معاف نہیں کروں گا۔ خدا کی قسم ! اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ رسی کا ایک ٹکڑا بھی بطور زکوۃ دیتے تھے تو میں وہ بھی ان سے ضرور وصول کروں گا۔ 4 پھر آپ نے فرمایا عمر ! اگر تم لوگ ڈرتے ہو تو بیشک چلے جاؤ میں اکیلا ہی ان لوگوں سے لڑوں گا اور اُس وقت تک نہیں رکوں گا جب تک یہ اپنی شرارت سے باز نہیں آجاتے ۔ 5 چنانچہ لڑائی ہوئی اور آپ ہی فاتح ہوئے اور اپنی وفات سے پہلے پہلے آپ نے دوبارہ سارے عرب کو اپنے ماتحت کر لیا۔ غرض حضرت ابوبکر نے اپنی زندگی میں جو کام کیا وہ انہی کا حصہ تھا کوئی اور شخص وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ کے