خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 166

1949ء 166 خطبات محمود اور اسے کہا غَيْرِ الشَّيْشَةَ یعنی حقہ کے نیچے جو پانی کا برتن ہے اس کا پانی بدل دو ۔ مگر اس یمینی نوکر کی زبان میں اس فقرہ کے یہ معنے تھے کہ اس شیشہ کے برتن کو توڑ دو۔ جب اس عورت نے یہ بات کہی تو وہ حیران ہو کر اس سے کہنے لگا کہ ستی 3 هذَا طَيِّبٌ یعنی اے میری آقا! یہ تو بڑا اچھا ہے۔ اس کو کیوں تو ڑا جائے؟ اس پر پھر اُس نے کہا کہ قُلتُ لَكَ غَيْرِ الشَّيْشَةَ یعنی میں جو تجھے کہتی ہوں کہ اس کا پانی بدل دو تو تو کیوں انکار کرتا ہے۔ اس نے پھر کہا کہ سی هَذَا طَيِّبٌ بیگم صاحبہ ! یہ تو بڑا ا اچھا ہے۔ اسے غصہ آیا کہ یہ عجیب قسم کا کا نوکر نوکر ہے۔ ہے۔ میں اسے کہتی ہوں پانی بدل دے اور یہ کہتا ہے پانی بڑا اچھا ہے۔ چنانچہ وہ ناراض ہوئی اور اس نے سختی سے کہا کہ میں جو تجھے کہتی ہوں کہ اس کو بدل دے تو تو کیوں نہیں بدلتا ؟ اس پر اس نے برتن اٹھایا اور زور سے زمین پر دے مارا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ عورت نے جب دیکھا کہ اس نے برتن توڑ دیا ہے تو وہ اسے گالیاں دینے لگ گئی کہ کمبخت ! تو نے میرا پانچ سو روپیہ کا برتن توڑ دیا ہے۔ تجھے کس نے کہا تھا کہ تو اس برتن کو توڑ دے؟ وہ نوکر کہنے لگا کہ میں بھی تو یہی کہتا تھا کہ یہ برتن بڑا اچھا ہے مگر تم کہتی تھیں کہ اسے توڑ ڈالو۔ اب میں نے برتن توڑا ہے تو تم نے شور مچانا شروع کر دیا ہے کہ میں نے برتن کیوں توڑا ہے۔ وہ حیران ہوئی کہ یہ کیا بات ہے اور میں نے کب اسے برتن توڑنے کا حکم دیا تھا۔ آخر کسی شخص نے جو یمنی زبان جانتا تھا اسے بتایا کہ غَيْرِ الشَّيْشَةَ کے معنے یمنی زبان میں یہی ہیں کہ شیشہ کا برتن توڑ دو۔ پس اس نے جو کچھ کیا ہے اپنی سمجھ کے مطابق کیا ہے۔ اس میں غصہ اور ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔ غرض زبانوں کے اختلاف کی وجہ سے بڑے بڑے فرق پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اوائل میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو قرآن کریم سکھایا تو چونکہ مختلف قبائل کے لہجوں میں اختلاف تھا اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی کہ ایسے الفاظ جن کا ادا کرنا ان کے لیے مشکل ہو انہیں وہ اپنے لہجہ کے مطابق پڑھ لیا کریں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ تک یہی سلسلہ جاری رہا۔ لیکن جب اسلامی حکومت قائم ہوگئی اور مکہ کی زبان ہر جگہ رائج ہوگئی اور ہر قبیلہ کے لوگ ان سے متعارف ہو گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دے دیا کہ اب صرف مکی لہجہ میں قرآن کریم لکھا اور پڑھا جائے ۔ 4 باقی زبانیں ترک کر دی جائیں تا کہ