خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 162

1949ء 162 خطبات محمود بنالیں گے؟ ہم کسی چیز کی تصویر اس وقت تک نہیں کھینچ سکتے جب تک کہ ہم نے وہ چیز دیکھی ہوئی نہ ہو یا اس کے متعلق پوری طرح تحقیقات نہ کی ہوئی ہو۔ صرف بعض اجزاء کا علم ہونے کی وجہ سے اس کی مکمل تصویر نہیں کھینچی جاسکتی۔ مثلاً انسان کے کان کے متعلق ہم نے سنا ہو اور ہم اس کی تصویر کھینچ لیں تو اسے کوئی انسان نہیں کہے گا یا خالی پاؤں کی ہم تصویر کھینچ لیں یا صرف آنکھ کی تصویر کھینچ لیں تو وہ انسان کا قائمقام نہیں بن سکتی ۔ اسی طرح اگر کوئی خیال یا عمل ایسا ہے جو ہزاروں شاخیں رکھتا ہے تو اس کے ایک حصہ کو اگر ہم لے لیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے وہ خیال ذہن نشین کر لیا ہے یا وہ کام ہم نے مکمل کر لیا ہے تو ہم غلطی پر ہوں گے۔ میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ایک سنجیدہ مزاج اور مخلص آدمی بھی محض اس لیے ٹھوکر کھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہن میں اس کام کا صحیح اور مکمل نقشہ نہیں بٹھاتا۔ وہ اس لیے ٹھوکر نہیں کھاتا کہ وہ قربانی اور جدوجہد کے لیے تیار نہیں تھا یا وہ اس کام کے لیے قربانی اور جدوجہد نہیں کرتا تھا۔ وہ قربانی بھی کرتا تھا، جدوجہد بھی کرتا تھا لیکن اس نے اس کام کا نقشہ غلط کھینچا اور اسے ناممکن چیز سمجھ کر بیٹھ گیا۔ اس وجہ سے وہ اُن فوائد کو حاصل نہ کر سکا جو وہ حاصل کر سکتا تھا ۔ مثلاً اگر کوئی شخص مکان کا یہ نقشہ کھینچ لے کہ اُس کی دو دیواریں ہوتی ہیں اور چھت ہوتی ہے تو جو شخص دو دیواروں والا مکان بنالے وہ چوروں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چور آئیں گے اور اُس کا مال اُٹھا کر لے جائیں گے ۔ وہ بارش سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ بارش آئے گی اور وہ بھیگ جائے گا اور اس کے گھر کا سامان بھی خراب ہو جائے گا۔ اسی طرح وہ ہوا کے جھونکوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ہوا سے جو نقصان ہوتا ہے مثلاً لوہے کی اشیاء وغیرہ کو زنگ لگ جانا اس سے وہ بچ نہیں سکتا۔ اب اسے یہ تکلیف اس لیے نہیں ہوگی کہ اس نے مکان بنانے کے لیے کوشش نہیں کی اور جدو جہد سے کام نہیں لیا۔ اس نے عمل بھی کیا اور قربانی بھی کی لیکن وہ اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکا کیونکہ اسے پتا نہیں تھا کہ مکان ہوتا کیا ہے۔ اگر اسے پتا ہوتا تو جہاں اس نے دو بڑی دیواریں بنائی تھیں کیا وہ دو اور دیواریں نہیں بنا سکتا تھا ؟ یا کیا وہ دروازہ میں سوراخ نکال کر زنجیر نہیں لگوا سکتا تھا۔ اُس نے دس میں سے آٹھ روپے خرچ کیے تو باقی دو روپوں کے خرچ کرنے میں اسے کیا تکلیف تھی ۔ اس نے یہ نقصان اسی لیے اٹھایا کہ اسے پتا نہیں تھا کہ مکان ہوتا کیا ہے اور یہ کہ اس کے لیے چار دیواروں کا ہونا ضروری ہے۔ غرض کسی کام کو سر انجام دینے سے قبل ضروری ہوتا ہے کہ