خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 141

1949ء 141 خطبات محمود داود بات سچ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ ہو لیکن کہنے کا فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ بات اُسی شخص کے سامنے بیان کی جائے جس کے ساتھ اُس کا تعلق ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص اصل آدمی کے علاوہ کسی اور کے سامنے باتیں کرتا ہے تو یہ علامت ہے اس کی منافقت کی ۔ کیا تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو یہ دعوی کرے کہ میں اتنی چھوٹی عقل کا ہوں کہ میں ایک منافق کو بھی پہچان نہیں سکتا ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ منافق کو پہچاننا نہایت آسان ہے۔ اس کی پیشانی پر منافق لکھا ہوا د یکھتے ہیں۔ یہ نہیں کہ واقع میں یہ لفظ ان کی پیشانی پر سیاہی سے لکھا ہوا ہوتا ہے۔ بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَهُمْ 3 منافق کی کچھ علام هُمْ 3 منافق کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے۔ ان علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ دوسرے کے پاس جا کر تمہاری بات کرتا ہے۔ وہ تمہارے سامنے آکر وہ بات بیان نہیں کرتا۔ اگر تم چندہ نہیں دیتے اور واقع میں وہ تمہاری اصلاح کرنی چاہتا ہے تو وہ تم سے کہے کہ تم چندہ کیوں نہیں دیتے؟ اگر تمہارا کوئی دوست نماز نہیں پڑھتا اور اسے سچ مچ اس کی اصلاح مدنظر ہے تو جو نماز نہیں پڑھتا اسے جا کر کہنا چاہیے کہ تم نماز پڑھا کرو۔ مثلاً فضل دین چندہ نہیں دیتا اور نورالدین نماز نہیں پڑھتا۔ اب فضل دین کے پاس جا کر یہ کہنے سے کہ نورالدین نماز نہیں پڑھتا نور الدین کس طرح نماز پڑھنے لگ جائے گا ۔ یا نورالدین کے پاس جا کر یہ کہنے سے کہ فضل دین چندہ نہیں دیتا کیا وہ چندہ دینے لگ جائے گا ؟ ایسا شخص منافق ہے جو تمہیں اپنے اپنے چندے اور اور نماز نماز کا کا دھوکا دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک مصلح کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ اگر وہ مومن ہے اور اس کی غرض اصلاح ہے تو وہ کیوں فضل دین کے پاس جا کر نہیں کہتا کہ تم چندہ نہیں دیتے ۔ نورالدین کے پاس جا کر کیوں کہتا ہے کہ فضل دین چندہ نہیں دیتا۔ اگر اس کی غرض اصلاح ہے تو وہ نورالدین کے پاس جا کر کیوں نہیں کہتا کہ تم نماز نہیں پڑھتے ۔ وہ فضل دین کے پاس جا کر نورالدین کے نقص کیوں بیان کرتا ہے؟ اسی طرح یہی منافقت اُس کی باقی باتوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ مثلاً قرآن کریم کہتا ہے کسی کو مارنا نہیں چاہیے وہ کسی کو مار بیٹھے اور کوئی دوسرا شخص اُس کو جا کر کہے میاں ! تم نے اس کو کیوں مارا ہے؟ قرآن کریم تو کہتا ہے کسی کو مارنا نہیں چاہیے۔ تو وہ جواب دیتا ہے بھلا اس طرح گزارہ ہوتا ہے۔ گویا دوسرے معنوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم