خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 139

1949ء 139 خطبات محمود ایک آدمی پیچھے چھوڑ جایا کرتے تھے تا کہ وہ اِدھر اُدھر دیکھ لے کہ قافلہ کی کوئی چیز پیچھے تو نہیں رہ گئی۔ اسی طرح اس سفر میں آپ ایک صحابی کو اسی غرض کے لیے اپنے پیچھے چھوڑ گئے تا وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہوا آئے اور اگر قافلہ کی کوئی چیز گر گئی ہو تو وہ اُسے اُٹھا لے۔ وہ صحابی گرے پڑے سامان کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ میدان میں ایک عورت لیٹی ہوئی ہے۔ پاس آئے تو معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ ہیں جو غلطی سے پیچھے رہ گئی ہیں۔ بات یہ ہوئی کہ جب رات کو قافلہ چلا تو حضرت عائشہ اس وقت قضائے حاجت کے لیے باہر گئی ہوئی تھیں اور چونکہ آپ اُن دنوں دبلی پتلی تھیں اور آپ کا بوجھ کم تھا قافلہ کے منتظم نے اُن کا ہودج اُٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور خیال کو کیا کہ آپ اندر ہی ہوں گی۔ جب آپ واپس آئیں اور دیکھا کہ قافلہ روانہ ہو چکا ہے تو آپ سخت پریشانی ہوئی اور وہیں بیٹھے بیٹھے سوگئیں ۔ صبح جب اس صحابی نے آپ کو دیکھا تو اُس نے زور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ پڑھا۔ اس آواز سے حضرت عائشہ بیدار ہوگئیں۔ انہوں نے غریب آ کر چپکے سے اپنا اونٹ بٹھا دیا۔ حضرت عائشہ سوار ہو گئیں اور وہ خود باگ پکڑ کر مدینہ چل آکر ۔ پڑے۔ جب مدینہ میں پہنچے تو بعض لوگوں نے جو منافق تھے یہ باتیں کرنا شروع کر دیں کہ حضرت عائشہ کا پیچھے رہنا بلا وجہ نہیں تھا بلکہ اس میں ضرور کوئی بات ہے۔ 2 چنانچہ قرآن کریم میں بھی اس واقعہ کا ذکر آتا ہے۔ اُن لوگوں کی منافقت کی بڑی علامت یہی تھی کہ وہ اصل آدمی کے پاس جا کر بات نہیں کرتے تھے۔ کسی شخص کا اصل آدمی کے پاس جا کر اُسے اُس کی برائی کی طرف توجہ نہ دلانا بلکہ ادھر اُدھر لوگوں میں اُس کی طرف منسوب کر کے بُرائی پھیلانا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ منافقت کرتا ہے اور اس کی ظاہری خیر خواہی محض بناوٹ ہے۔ اُس کی اصل غرض یہ ہے کہ بدظنی اور بُرائی پھیلے۔ ورنہ وجہ کیا ہے کہ وہ اصل آدمی کے پاس جا کر اپنی بات بیان نہیں کرتا۔ یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا اس طرح اُس شخص کی اصلاح ہو جائے گی؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ منافق ہمیشہ شرافت سے تجارت کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کتا اپنے مالک کو دیکھ کر گو دتا ہے، نوکر اپنے مالک کی وجہ سے ناز کرتا ہے۔ کوئی شخص کسی سے بد کلامی کرتا ہے تو اس لیے کہ وہ سمجھتا ہے میں اگر اسے گالیاں دوں گا تو یہ خاموش رہے گا ۔ اسی طرح ایک منافق دوسرے شخص کی شرافت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے یہ شریف آدمی ہے اس لیے یہ میری