خطبات محمود (جلد 2) — Page 82
۸۲ نہیں ۔ آپ بے شک جائیں ۔ خدا خود ہماری حفاظت کرے گا اور وہ عمر کو منا ری حفاظت کرے گا اور وہ ہم کو ضائع نہیں ہونے دیگا اور تسلی سے واپس آگئیں ۔ اور اپنے بچے حضرت اسمعیل علیہ السلام سم کے پاس جو اس وقت چھ سات برس کی عمر سے زیادہ نہ تھے بیٹھ گئیں ۔ اس وقت اگر وہ چاہتیں تو کسی آبادی کی طرف رخ کر لیتیں مگر انہوں نے خدا تعالٰے کے حکم کا احترام کیا اور اسی کے توکل اور بھر دسہ پر اس جنگل بیابان کی رہائشی منظور کر لی جہاں نہ کوئی آبادی تھی نہ بازار ، نہ کوئی کنواں تھا نہ تالاب ۔ آخر پانی کا ایک مشکیزہ اور مھجوروں کی ایک تھیلی کیا ہوتی ہے ۔ تھوڑے عرصہ میں پانی بھی ختم ہو گیا اور کھجوریں بھی ختم ہو گئیں ۔ حضرت ہاجرہ کو بھی گو تکلیف تھی مگر بچے کی تکلیف کو دیکھ کر وہ بہت بے قرار ہو گئیں ہوگئیں اور صفا او اور مروہ دونوں پہاڑیوں پر ادھر سے اُدھر اور اُدھر سے ادھر دوڑنا اور اوپر چڑھ کر دیکھنا شروع کیا تا شاید کوئی آتا جا تا تحافلہ ہی نظر آجائے جس سے پانی لے کر بچے کو پلائیں اور خود بھی نہیں ۔ جب وہ صفا پر یا مردہ پر چڑ تھیں تو ساتھ ہی چلا کر ہر دفعہ ی بھی کہتیں کہ کوئی خدا کا بندہ ہے جو نہیں پانی دے؟ اور ساتھ ہی بچے کی حالت کو دیکھکر اور بھی پریشان ہو جائیں ۔ جب ان کی گھبراہٹ انتہاء کو پہنچ گئی تو خدا کے فرشتے نے ان کو بشارت دی کہ اے تاجرہ گھبرا نہیں ۔ جا تیرے بچے کا سامان خدا نے کر دیا ہے۔ چنانچہ جب وہ بچے کے پاس آئیں تو دیکھا کہ خدا نے وہاں پانی کا چشمہ پیدا کر دیا ہے جو آجتک قائم ہے اور زمزم کہلاتا ہے انہوں نے بچے کو پانی پلایا اور خود بھی پیا ۔ آہستہ آہستہ وہاں آبادی ہو گئی ۔ کوئی قافلے اپنے جو وہاں سے گزرے تو انہوں نے تجارتی ترقی کے لئے یہ منا یہ مناسب سمجھا کہ اس چشمے پر پڑاؤ قائم کیا جاے جہاں قافلے آکر ٹھرا کریں ۔ چنانچہ اسی خیال سے وہ اپنے کچھ آدمی اس چشمہ پر چھوڑ گئے کہ اس سے ہماری تجارت میں ترقی ہو گی ۔ آخر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے نتیجہ میں وہاں بہت بڑی آبادی ہوگئی ہوگی ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالے کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ۔ اور اس تعلق اور محبت کی کچھ پرواہ نہ کی جو اُن کو اپنے بچے سے تھی۔ کیونکہ طبعی طور پر بڑھاپے میں جا کر جو اولاد ہوتی ہے ، اس اس سے انسان کی بہت محبت ہوتی ہے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام بڑھاپے میں آپ کے ہاں پیدا ہوئے تھے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں ان کی نہایت گرمی اور شدید محبت تھی مگر خدا کے لئے انہوں نے اس کو قربان کر دیا ۔ تب اللہ تعالے کی طرف سے ان کو الہام ہوا کہ اسے ابراہیم! آسمان کی طرف دیکھ ۔ کیا تو آسمان کے ان ستاروں کو گن سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا۔ یہ میری طاقت سے باہر ہے کہ میں آسمان کے ستاروں کو گن سکوں تب خدا نے فرمایا۔ اسے ابراہیم ؟ میں نے تیری قربانی کو دیکھا ۔ اب میں تیری اس قربانی کے بدلے