خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 67

کو جلا کر راکھ بنا دیتی ہے اور عمروں کے اعمال کو حبط کر کے خالی ہاتھ کر دیتی ہے۔ محض گناه یا مخفی نا فرمانی تو حضرت آدم علیہ السلام کی طرف بھی منسوب ہوتی ہے ۔ کیوانی نا فرمانی کہتے ہیں حکم کے نہ ماننے کو۔ سو وہ تو حضرت آدم علیہ السلام سے بھی ہوتی ہے اور ابلیس کی تان بھی نافرمانی منسوب ہوئی ۔ میرا فرق کیا ہے ؟ جس سے حضرت آدم علیہ السلام تو باوجود نا فرمانی کے مقرب او محبوب ہے اور ابلیس ہمیشہ ہمیش کے لئے مردود اور متروک ہو گیا۔ فرق صرف ہیں ؟ که حضرت آدم علیہ السلام سے نافرمانی سرزد ہوئی مگر نسیان سے اعمد ا نہیں، ابا سے نہیں، استکبار سے نہیں۔ اور ابلیس سے نافرمانی ہوئی اباء سے اور استکبار سے نہیں اٹھ ایک مسلمان اگر نماز نہیں پڑھتا مگر اندر ہی اندر نادم ہوتا ہے اور نماز کا انکار تو نہیں کرتا بلکہ اپنی سستی اور غفلت کا اقبال کرتا ہے ۔ اور کسی کے پوچھنے پر شرمندگی سے سر نیچا کر لیتا ہے گردن ڈال دیتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے تو وہ مومن ہے اور مسلمان ہے لیکن اگرا باد کرتا استکبار دکھاتا اور اپنے گناہ پر مصر ہے اور اسے مستحسن سمجھتا ہے تو وہ امیان سے خارج ہو جائے گا۔ محض گناہ انسان کو امیان سے خارج نہیں کرتا خواہ انسان اعمال ظاہری میں سست ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن بظاہر پابند شریعت ہو کہ بارد استکبار کرنے والا کبھی بھی مومن نہیں رہ سکتا ۔ یہ ایک محتہ ہے کہ جس نے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ دھوکا کھاتے ہیں۔ اکثر سوال ہوتا ہے کہ فلاں شخص تو بڑا نیک پارسا تھا ۔ عاہد تھا ۔ ن ا بد تھا۔ خادم دین تھا تبلیغ میں حصہ و اخر لیتا تھا ، وہ کیسے مرتد ہو گیا ۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ ایسے بڑے کہلانے والے۔ ایسے قربانیاں کرنے والے لوگ ، لوگوں کے نفسوں کا تو محاسبہ کرتے ہیں۔ مگر اپنے نفس کے محاسبہ کا انہیں کبھی خیال تک بھی نہیں آتا ۔ وہ عبادت کرتے ہیں مگر اس لئے کہ عبادت کرتے کرتے ان کے اندر ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے ۔ وہ زہد کرتے ہیں مگر اسی ذوق کی بناء پر ۔ ان کے قلب کا انجن ٹھیک نہیں ہوتا ۔ ان کے دل میں وہ الیان اور وہ روح پیدا نہیں ہوئی ہوتی ہو حقیقت ایسی ہو۔ اس کی مثال بعینہ کلاک کے پنڈولم ( PENDOLUM کی ہے جو موازنہ سے حرکت کرتا ہے ۔ ذراسی روک آ راسی روک آئی اور تھم گیا ۔ اس روک کے مقابلہ کرنے والی قوت ان کے لوں میں پیدا نہیں ہوئی ہوتی ۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی شاذ ہیں جو اس نکتہ کو سمجھے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ اگر وہ ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کی صفائی پر بھی زور دیتے ۔ اور ان کے اندر یہ روح پیدا ہو جاتی کہ جب جب کوئی حکم اللہ تعالے کی طرف سے ، اس کے رسولوں کی ب جب کوئی حکم سے ، رسولوں طرف سے یا ان کے خواب و خلفاء کی طرف سے آتا ، وہ اس کے قبول کرنے اور بسر و چشم ماننے