خطبات محمود (جلد 2) — Page 62
۶۲ کوئی جواب حضرت ابراہیم ابراہیم علیہ السلام نے ان کو نہ دیا ! کو نہ دیا اور چپکے چلتے گئے ۔ حضرت ہاجرہ نے پھر عرض کیا دوبارہ سہ بارہ پوچھا کہ حضور ہمیں اس بے گیاہ، بے آب و دانہ خوفناک اور بھیانک جنگل میں جہاں نه انسان ہے او نہ کوئی مونس و غمخوار نے تنہائی اور جُدائی ڈراتی ہیں، ایسے لق و دق سنسان بیابان میں بے سرو سامان چھوڑ کر کہاں تشریف لے جاتے ہیں ؟ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے پھر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ تو حضرت ہاجرہ رضی الله عنها عرض کرتی ہیں کہ کیا اللہ تعالے نے آپ کو الیسا کرنے کا حکم دیا ہے اب اور کیا آپ اللہ کے حکم سے ہمیں یہاں چھوڑتے ہیں ۔ اس پر حضرت ابراہیم السلام نے صرف اتنا جواب دیا ہم رہاں ) ۔ حضرت ہاجرہ کا ایمان بھی کیسا کامل ایمیان ہے اور کیس پایہ کی مطیع اور متوکلہ عورت ہیں کہ جب اللہ کا نام آیا ، دل قوی ہو گیا ۔ تمام خطر سے جاتے رہے ۔ ساری تنہائی اور بے سروسامانی بھوں گئی ۔ نہایت انشراح صدر اور کمال اطمینان سے کہتی ہیں - اذن لا يُضَيعُنَا ۔ یہ کہکر حضرت ابراہیم کی طرف سے اپنے لخت جگر ، نور بصر کی طرف لوٹ آتی ہیں اور رضاء الہی پریشا کر اور اس کے حکم کی نجا آوری کے لئے صابر ہیں ۔ ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام جب راستہ کے موڑ پر پہنچے اور دیکھا کہ آپ اب ان کی نظریں سے اوجھل ہیں ۔ منہ قبلہ کی طرف پھیر لیا اور کھڑے ہو کر اپنی پیاری بیوی اور عزیز بچے کو اللہ کے سپرد کرتے اور دعا کرتے ہیں بناتي اسكنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِهِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقَهُمْ مِّنَ الثَّمَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ یا اس دعا کے بعد گویا حضرت اس دعا ابراہیم علیہ السلام مطمئن ہو گئے اور ان کو اللہ کے وعدوں پر کامل یقین اور پورا بھروسہ تھا کہ وہ ان کو ضائع نہ ہونے دے گا ۔ اور ایسا بڑھائے گا کہ دنیا کی ریت کے ذرات کا گنا جانا ممکن مگر یہ کمی نہ گئے جا سکیں گے ۔ دُعا بھی کسی کامل دعا کی ہے کہ ان کی روحانی جسمانی ضروریات کو مد نظر رکھ کر جامع دعا کی ہے۔ حضرت ہاجرہ اور ان کے بچے کے پاس تھوڑی سی کھجور اور تھوڑا پانی تھا۔ جلدی ختم ہو گیا۔ اور بچے بھوک پیاس کی زیادہ برداشت نہیں کر سکتے ۔ پیاس سے تنگ آکر حضرت اسمعیل نے رونا اور چلانا شروع کیا۔ ماں کی مامتا مشہور ہے ان کے جناب اور لوٹ پوٹ ہونے کو دیکھ نہ سکیں اور ادھر کے جناب اور ہونے کو دیکھ نہ اور ادھر ادھر پانی کی تلاش میں دوڑنے لگیں ۔ ایک طرف صفا کی پہاڑی اور دوسری جانب مروہ کی بلندیاں تھیں۔ اُدھر سے ادھر اور ادھر سے اُدھر سات مرتبہ دوڑی تھیں کہ کہیں کوئی پانی کا نشان مل جائے۔ گھبراہٹ میں تھیں، بچہ جاں بلب تھا ۔ اس درد کا کون اندازہ کر سکتا ہے آخر ایک آواز