خطبات محمود (جلد 2) — Page 59
وه نقرہ نقل نہیں کیا گیا لیکن جس کی رو کی گئی اس کے متعلق فرماتا ہے کہ اس نے دوسرے کو کہا۔ میں تجھے مار دوں گا ۔ گویا اس طرح وہ اپنی قربانی جب لاتا ہے اس کے جواب میں دوسرا اپنی قربانی کا ذکر نہیں کرتا بلکہ یہی کہتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلَ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ۔ یہ کیا بیہودگی ہے که تمهاری قربانی قبول نہیں ہوئی اس لئے تم اور اُلٹ کام کرنے لگے ہو۔ تمھیں تو چاہیے تھا کہ اور زیادہ عجز اور انکسار اختیار کرتے نہ کہ مجھے قتل کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ اگر ایسا کروگے تو انتقاء کی حدود سے بالکل باہر نکل جاؤ گے اور پھر تمہاری قربانی کبھی قبول نہ ہو سکے گی ۔ جو حالت اس شخص کی ہوئی اسی طرح بہت سے لوگوں کی ہوتی ہے ۔ ان کے سپر د جب کوئی دین کا کام ہوتا ہے تو پھر کہتے ہیں کہ فلاں کو تو خدمت کا یہ بدلہ ملا تھا ہم کو نہیں ملا۔ ایسے لوگوں کو ان دو شخصوں کی مثال پر نظر رکھنی چاہیتے اور دیکھنا چاہیئے کہ علات، رتبہ اسی کو حاصل ہوتا ہے جس کی قربانی قبول ہو۔ اور اگر قربانی رد ہو جائے تو پھر کچھ نہیں ملتا پس صرف قربانی پر فخر کرنا ایک مرض ہے ۔ ایک زہریلا کیڑا ہے، ایک قسم کا دق ہے جس سے بہت ممکن ہے کہ انسان ہلاک ہو جائے اور جب تک کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے وہ محض خدا کے فضل سے کیا ہے ۔ اور وہ قربانی نہیں بلکہ خدا کا فضل ہی ہے اس وقت تک اس کو عزت نہیں مل سکتی بلکہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے ۔ اس وقت دیکھو ہمارے مقابلہ میں بعض ایسے لوگ کھڑے ہو گئے جنہوں نے دعوی کیا کہ چونکہ ہم نے بڑی بڑی نوکریاں اور بڑے بڑے فوائد چھوڑے اور ہم نے قربانیاں کی ہیں۔ اس لئے ہم غربت کے قابل ہیں۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ محض قربانی کرنے سے کسی قسم کی حضرت قاتل نہیں ہو سکتی۔ جب تک وہ قبول نہ ہو جائے ۔ اگر ایک شخص نے ایسی قربانی کی جو نظر نہ آئے مگر خدا نے اس کو قبول کر لیا تو اسی کو عزت ملے گی لیکن اگر بظا ہر کسی نے بہت بڑی قربانی کی اور وہ قبول نہ ہوئی تو ہر گز اسے قربت حاصل نہ ہو نہ ہوگی ۔ تو ظاہری قربانیوں کو نہیں دیکھنا چا ۔۔ بلکہ قربانی وہی ہوتی ہے جس کو خدا تعالئے قبول کرلے ۔ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو دین کی خدمت کرنے کا موقع دے اور ان میں قربانی کی رح پیدا کرے اور وہ اسکو فنڈ کا احسان اور افضل سمجھیں تا کہ خدا تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول کیتے آمین۔ الفضل ۲۰ ستمبر ۱ تا ۲) - المائده ۲۸:۵ - ۲ صحیح بخاری کتاب العيدين باب الاكل يوم الفطر قبل الخروج - شهر جامع ترندی ابواب كتاب السفن الكبرى بیتی کتاب صلاة العيدين باب يترك الأكل يوم النحر حتى يرجع - تله الضحى ٩٣ : ہے ۔ مسند احمد بن حنبل جبلد اصفحات ۵ ۰۲۹۵۰۲۸۰ له الحجرات ١٣٤٢٩ ۱۷:۱۳ くっ تو جنگ عظیم اقول ۔ ڈل ۔ اس کے متعلق نوٹ پہلے آچکا ہے ۔ کے المائده ۵ : ۳۲۲