خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 57

06 بڑا تمنہ اس لڑائی میں سب سے پہلے کس نے حاصل کیا تھا۔ گویا اتنے تھوڑے عرصہ میں یہ بھی یاد نہیں رہا۔ تو دنیا کی عزت جس کی یہ حالت ہے اس کے لئے جب جانیں قربان کی جاتی ہیں تو سوچنا چاہیئے کہ خدا کی طرف سے عزت حاصل کرنے کے لئے جو ہمیشہ رہنے والی ہے کس قدر قربانی ہونی چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ خدا تعالے کے لئے جو قربانیاں کی جاتی ہیں ان کا نام تو قربانیاں ہوتا ہے مگر دراصل وہ خدمتیں ہیں جن کے معاوضے ملنے ہوتے ہیں کیونکہ قربانی تو اس کو کہتے ہیں کہ بغیر کسی معاوضہ کے کوئی کام کیا جائے۔ گوبندہ خدا تعالے سے سودا کر کے قربانی نہیں کرتا مگر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو انسان خدا کے لئے قربانیاں کرتا ہے اسے اس کے بدلہ میں اس قدر انعام ملتے ہیں کہ جن کی کوئی حد نہیں رہتی ۔ اس لئے ہم نہیں کہ سکتے کہ خدا کے لئے جو قربانیاں کی جاتی ہیں وہ قربانیاں ہوتی ہیں بلکہ انہیں معمولی سے معمولی خدمتیں بھی نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ ان کے بدلے میں بہت بڑا معاوضہ اور اجر ملنا ہوتا ہے ۔ تو خدا کے لئے جو قربانی کی جاتی ہے گو اس کا نام قربانی ہی ہے۔ لیکن یہ بھی محض خدا کا فضل اور احسان ہے کہ بندہ اپنی۔ عزت اور مرتبہ کے بلند ہونے کے لئے جو کام کرتا ہے اس کا نام قربانی رکھ دیا گیا ہے ورنہ وہ کام معمولی خدمت بھی کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔ تو یا د رکھنا چاہئیے کہ خدا تعالے کے لئے جو قربانیان کی جاتی ہیں خواہ وہ نفس کی ہوں یا مال کی وہ در حقیقت خدمتیں ہیں کہ جن کے بدلے بہت بڑھ چڑھ کر ملتے ہیں۔ اور اس قدر ملتے ہیں کہ وہ قربانیاں خدمات کہلانے کی بھی مستحق نہیں ہیں ۔ بہت لوگ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دھو کہ میں پڑ جاتے ہیں اور دین کا کوئی کام کر کے کہتے ہیں ہم نے پر قربانی کی ہے دانا نکہ وہ قربانی کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی ۔ قربانی تو یہ ہے کہ ایک شخص ڈوب رہا ہو ، انسان اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اسے نکال لائے ۔ یا ایک پیاسا ہو اسے اپنا پانی دے دیا جائے گویا جب کسی کو احتیاج ہو اور اپنے مفاد کو نظر انداز کرکے اس کی مدد کی جائے تو اس کو قربانی کہا جاتا ہے مگر خدا تعالے کو تو کسی قسم کی احتیاج نہیں ہے اور نہ اس کو کسی کی امداد کی ضرورت ہے۔ ایک ڈوبنے والا یہ نہیں کہتا کہ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے لیکن خدا تعالے کو تو کسی کی پروا نہیں ہے بلکہ وہاں تو یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ فلاں نے جو میرے نام سے کام کیا ہے اُسے قبول کیا جائے یا رد کر دیا جائے۔ چنانچہ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ دو آدمیوں نے قربانی کی جن میں سے ایک کی قبول کر لی گئی۔ اور دوسرے کی رد کر دی گئی تو خدا تعالیٰ کے حضور اور ہی رنگ ہے۔ قربانی تو یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص دوسرے کی خاطر خود تکلیف اُٹھا کر کوئی کام کرتا ہے اور دوسرا اس کا ممنون احسان