خطبات محمود (جلد 2) — Page 54
۵۴ ८ و فرموده در ستمبر 0 بمقام باغ حضرت مسیح موعود علی السلام قادیا) وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا ابْنَى دَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّنَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِهِ قَالَ لَا قُتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ یہ عید قربانی کی عید کہلاتی ہے ۔ عید الاضی بھی اسے کہتے ہیں۔ کیونکہ اس پر قربانیان کی جاتی ہیں ، ہمارے ملک میں اسی کا ترجمہ کر کے اس کا نام بعض لوگوں نے عید قربان رکھ لیا ہے ۔ اس عید میں اور اس سے پہلی عید میں جو عید الفطر کہلاتی ہے ۔ یہ فرق ہے کہ عید الفطر میں بوجہ اس کے کہ میدان کا تمام همینه طاقت رکھنے والے مسلمان روزے رکھتے رکھتے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہ کی اس عید کے دن یہ سنت تھی کہ آپ صبح کچھ ناشتہ کر کے عید پڑھنے کے لئے جاتے تھے کہے مگر آج کی عید کے دن کا پہلا حصہ نیم روزه اور پچھلا حصہ قربانی کا ہوتا تھا۔ اور آپ کی سنت تھی کہ عید پڑھنے سے پہلے کچھ تناول نہ فرماتے تھے ، بعد میں جا کر قربانی کے گوشت سے کھاتے تھے ۔ اس لئے یہ عید اپنے اندر دو نمونے رکھتی ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ روزے کا اور دوسرا حصہ کھانے کا ہے مگر پہلی عید ایک ہی رنگ رکھتی ہے کہ مہینہ بھر روزے رکھے جاتے ہیں اور اس دن کھایا پیا جاتا ہے ۔ عام طور پر یہ عید بڑی عید کہلاتی ہے۔ اور رمضان کے بعد جو عید آتی ہے وہ چھوٹی ۔ یوں تو ان کی بڑائی چھوٹائی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ جس شخص نے جس عید پر خدا تعالیٰ کے قرب کی راہ تلاش کی وہی عید اس کے لئے بڑی ہے۔ اور جس عید کا دن یونہی گزر گیا وہ عید اس کے لئے چھوٹی چھوڑ محرم اور ماتم کا دن - اور ماتم کا دن ہے تو بڑی اور چھوٹی عید نسبتی امر ہے۔ حقیقت میں کوئی نہیں جانتا کہ کونسی عید بڑی ہوگی اور کونسی چھوٹی ۔ نمو کا چونکہ اس عید پر قربانیاں ہوتی ہیں اور لوگ خوب کھاتے پیتے ہیں اس لئے اس کو بڑی عید کہتے ہیں۔ مگر لوگوں کے اس فیصلہ کے علاوہ اس کے متعلق ہم ایک خدائی فیصلہ بھی دیکھتے ہیں لوگوں نے تو اس کا نام بڑی عید رکھا مگر جہالت سے کہ کھانے پینے کا خوب موقع ملتا ہے لیکن خدا تعالٰے کی طرف سے بھی اس کو بڑائی کا خطاب ملا ہوا ہے۔ پرانے زمانہ کو تو جانے دو کہ اس میں خدا تعالیٰ نے اس عید کی کیا فضیلت بیان کی ہے۔ اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو العام ہوا کہ اس عید پر عربی میں خطبہ پڑھنا ۔ خدا تعالے تمہاری زبان پر الفاظ جاری کرے گا چنا نچہ ایسا ہی ہو T