خطبات محمود (جلد 2) — Page 50
۵۰ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ۔ تو ایک صحابیہ عورت گھبرا کر مدینہ سے نکل آئی اور ایک شخص سے جو میدان جنگ سے واپس آرہا تھا اس نے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے۔ اس نے اس کا تو کوئی جواب نہ دیا اور کہا کہ تیرا باپ شہید ہو گیا ہے ۔ عورت نے کہا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا تیرا بھائی بھی شہید ہو گیا ۔ عورت نے کہا میں سول کریم صلے ان اللہ علیہ و آلہ رسم حال پوچھتی پوچھتی ہوں ۔ وہ شخص چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بخیر و عافیت دیکھ آیا تھا ۔ اس لئے ہے فکر تھا۔ اس نے کہا۔ اسے عورت تیرا خاوند بھی مارا گیا ۔ اس نے کہا۔ میں تجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال پوچھتی ہوں ۔ ان کا کیا حال ہے ۔ اس نے کیا وہ تو زندہ سلامت ہیں۔ عورت نے کہا۔ الحمد للہ ! جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں تو کسی کی موت کی پروا نہیں تو اتنے رشتہ دار اس عورت نے قربان کئے مگر حضرت ابرا ابرا هستیم اور اس عورت کی نیتوں میں کچھ تو فرق تھا کہ ابراہیم کے محض ارادہ کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے مگر اس عورت کی ان قربانیوں کا ایسا نتیجہ نہیں نکلا۔ اسی طرح عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کے بیٹے نے اپنے باپ کو اس لئے قربان کرنا چاہا کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور گستاخی کی یہ قربانیاں بجائے خود تو بہت بڑی تھیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نیت کا مقابلہ ان کی نیت نہیں کر سکتی اسی لئے نتیجہ میں فرق ہوا۔ اسی طرح مسلمانوں کی عراق میں ایرانیوں سے جب جنگ ہو رہی تھی تو ایرانی میدان میں ہاتھی لاتے تھے وہ مسلمانوں کو کچلتے پھرتے تھے اور ایسی حالت مسلمانوں کی ہو گئی تھی کہ اگر وہاں شکست ہو جاتی تو ایران و عراق میں مسلمانوں کی فتوحات کا خاتمہ ہو جاتا ۔ اس وقت ایک مسلمان عورت کے چار بیٹے تھے۔ اس نے ان چاروں کو بلایا اور کہا میں نے تمھیں پرورش کیا اور تمہارے باپ کی کبھی خیانت نہیں کی۔ میرا تم پر حق ہے اور وہ حق میں آج اس طرح مانگتی ہوں کہ تم چاروں جاؤ اور اسلام کی حفاظت میں جان دید دو مگر پیچھے نہ ہٹو نے جان دینے کے لئے بھیجنا یہ بھی ایک قربانی ہے مگر اس کے چار بیٹے دے دینے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹا قربان کرنے میں بڑا فرق تھا اور وہ فرق نیت کا ہی تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نیت پر ہی ہر قسم کے اعمال کا نتیجہ مرتب ہوتا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوبکری کی نسبت فرمایا کہ ان کی بزرگی ان کی نمازوں کے باعث نہیں ہے ۔ بلکہ اس بات کے باعث ہے جو ان کے دل میں ہے یعنی نیست پس درجہ کو بڑھانے والی عمل سے بڑھ کر نیت ہوتی ہے جیسی اعلی نیست ہو۔ ویسا ہی اعلی نتیجہ نکلتا سے قربانی میں بھی نیست اصل چیز ہے اس لئے یاد رکھو ۔ اسلام کے۔ کے لئے خدا کے لئے اور یہ ۔