خطبات محمود (جلد 2) — Page 48
دم میں قربان نہ کر کے بچانا چاہتا ہے مگر نہیں بچا سکتا۔ یا اس میں کہ جو خدا کے لئے خرچ کر ڈالتا ہے اس کی یہ چیزیں ضائع نہیں کی جاتیں ۔ ماننا پڑے گا اور ہر دانشمند اسے ت اسے تسلیم کرنے لے گا کہ دانشمندی اسی میں ہے کہ ان اشیاء کو خدا کے لئے قربان کر دیا جائے تا کہ وہ ضائع نہ بجائے تاکہ وہ ضائع نہ ہوں کیونکہ ابدی منو یونکہ ابدی نجات خدا کے لئے قربانی کرنے میں ہے۔ اور ابدی ہلاکت خدا کے لئے قربانی کرنے میں نجل میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْنَ يَكُونُ يرا ما - ان کو کرو کہ خدا کو تمہاری کیا پرواہ ہے۔ اہ ہے اگر تمہاری دعا نہ ہو۔ اس ضرور تم نے جھٹلایا اس جھٹلانے کے وبال سے تم بچ نہیں سکتے۔ یہی السلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان بھیڑوں سے کہدو کہ تم ہو کیا چیز غلاظت کھا ۔ چیز غلاظت کھانے والی بھیڑیں ہی ہو اور تمہاری تخلیق نطفہ سے ہے جو ایک حقیر پانی ہے۔ اگر تم خدا کی رضا کے حصول کی طرف نہیں آتے تو اس کو تمہاری کچھ پروا نہیں ۔ بچہ کو مٹی کے کھلونے کی پروا ہوتی ہے۔ مگر خدا کو تمہاری اتنی بھی پروا نہیں۔ اگر تم اس کی عبادت کرو تو اس کی شان بڑھ نہیں جاتی اور اگر انکار کرو تو اس کا رج نہیں ہوتا ۔ ایک بچہ کو کھلونا توڑتے وقت تکلیف محسوس ہوتی ہے مگر خدا کو ساری دنیا کے ہلاک کر دینے میں اتنی پروا نہیں ہو سکتی ۔ ہاں تمہاری دعائیں اور التجائیں ہیں جن کی وجہ وہ تم پر رحم فرماتا ہے ۔ کچھ میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہد میں جب خلافت اور ا اور انجمن کی حیثیت اور تعلقات کا جھگڑا اُٹھا تو اس کے متعلق حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے چند سوال میرے پاس بھی بھجوائے اور ان کا تحریری جواب دینے کے لئے ارشاد فرمایا ۔ چونکہ یہ معاملہ نہایت نازک اور اہم تھا او جماعت پر بڑا اثر ڈالنے والا تھا۔ اس لئے لئے ہیں ڈرا کہ اس میں کوئی ایسی رائے نہ دے دور سے خدا کے عذاب کا مستوجب ٹھروں ۔ اگر چہ میں خلیفہ کو انجمن کا مطاع یقین کرتا تھا لیکن بغیر دعا کے میں نے اس کے متعلق رائے نہ دینا چاھی ۔ اس لئے میں دعا میں مصروف ہو گیا۔ اور خدا سے اس بارے میں مدد طلب کی۔ کیونکہ میں چاہتا تھا کہ خدا تعالے بالکل کھلے اور واضح طور پر مجھے الهام پاکش یا کشف و رویا کے ذریعہ اس حقیقت پر مطلع فرمادے ۔ پس میں دعا میں مصروف رہا۔ لیکن مجھے کو چھے تقسیم نہ ہوئی حتی کہ وہ دن آگیا جو آخری تاریخ حضرت خلیفہ المسیح نے جواب دینے کے لئے مقرر فرمائی تھی ۔ اور صرف ۲۴ گھنٹے اس میں باقی رہ گئے ۔ اس وقت میں سخت مضطرب ہوا اور میں نے فیصلہ کرایا کہ چونکہ مجھے خدا کی طرف سے کچھ نہیں بتایا گیا اس لئے ہمیں اس مجلس میں ہی نہیں جاؤں گا کہیں اور باہر چلا جاؤں گا ۔ لیکن اس ارادہ پر بھی اطمینان نہ ہوا ۔ آخر جب اضطراب زیادہ ہوا ۔ تو اس وقت مجھے الہام ہوا کہ من مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ لو