خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 43

کہیں مختلف قسم کی بیماریوں سے لوگ مرتے ہیں، کہیں زہر سے مر جاتے ہیں، بعض قتل کئے جاتے ہیں فریق ہزاروں ذریعوں سے لوگ مر جاتے ہیں اور کوئی نہیں جو ہمیشہ زندہ رہا ہو۔ سب سے بڑا انسان جو دنیا میں آیا اور میں سے بڑا قیامت تک نہیں آئے گا وہ ہمارے آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ لیکن کیا آپ نہ آپ زندہ رہے، ہرگز نہیں بلکہ آپ کو بھی آخر دنیا کو چھوڑنا ہی پڑا۔ آپ کی وفات کو حضرت می شود علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السّلام کی وفات کے لئے بطور دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ جب آپ زندہ نہیں رہے تو حضرت عیسے کسی طرح زندہ رہ سے کس طرح زندہ رہ سکتے ہیں یہ آپ سید ولد آدم تھے۔ یہ تمام بنی آدم کے سردار تھے۔ اور آپ کی وہ شان ہے کہ خدا تعالٰے آپ کو فرماتا ہے ۔ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ) نَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي فَان يُحْبِبْكُمُ اللہ علیہ گرتم اللہ سے محبت کرتے ہو اور اس کے محبوب بلنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی ذریعہ یہ کہ میری اطاعت کرو جب تم ایسا کروگے تو خدا تعالے الئے تم سے پیار کرے گا۔ پس جب آپ ایسا عظیم الشان ریشان اور بے نظیر انسان بھی بالآخر فوت ہی ہو گیا اور ایسے وقت میں ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسے جلیل القدر انسان کو کہنا پڑا کہ اگر کوئی یہ کہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اس کا سر تلوار سے اُڑا دوں کے لیے عرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں چھوڑنا ہی پڑا ۔ اور آپ کی وفات پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ہے اور وہ یہ نے کہا كنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمَتَ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَادِ رَه کہ تو میری آنکھ کی پتلی تھا ۔ تیرے فوت ہونے سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔ تیرا مرنا مجھ پر شاق تھا۔ اب جو چاہے مرے مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ غرض مرنا تو سب کو ہے لیکن موت وہی مبارک ہے جو خدا کے لئے اور اس کے دین کی خاطر مع غلہ ہزاروں من ضائع ہو جاتا ہے لیکن کیا وہ قیمتی کہا جا سکتا ہے یا اسے جو انسان و کے پیٹ میں جائے ۔ پھر وہ پھل قیمتی ہے جسے انسان کھائے یا وہ جو اگرچہ کچھ زیادہ دنوں صورت پر رہے لیکن گل سڑ کر زمین پر گر پڑے ۔ یقیناً ماننا پڑے گا کہ وہی پھیل قیمتی ہے جسے انسان بنے کھایا اور جو انسان کے جسم کا کوئی جزوہ بنا اور خدا کی رضا کے ماتحت چلنے والا ہوا ۔ مثلاً وہ سیب کس قدر قیمتی تھا جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا۔ اور وہ آپ کے جسم اطہر کا کوئی حصہ بنا اور اس نے اس ذریعہ سے خدا کی رضا کے حاصل کرنے والے کام کیئے۔ تو اس سیب کو نہایت قیمتی کہا جائے گا ۔ اور اس کی موت و قربانی قابل قدر ہوگی جو انحصرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود کا جزو ہوئی ۔ اسی طرح وہ جان جو خدا کی راہ میں صرف ہوئی وہ جان جو خدا