خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 40

م تو تمام دنیا کے کاموں میں قربانی کا سلسلہ جاری ہے اور جتنی کار آمد کوئی چیز ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ اس کے لئے قربانی کی جاتی ہے۔ بعض انسانوں کے لئے ہزاروں لاکھوں انسان قربان ہو جاتے ہیں ایک بادشاہ کے لئے، ایک جرنیل کے لئے، ایک افسر کے لئے بیسیوں نہیں سینکڑوں اور ہزاروں آدمی اپنے آپ کو قربان کر دیتے ہیں اور اگر ایک کار آمد انسان بہت بڑی انسانی قربانیوں کے کے بعد بچا لیا جائے تو بہت بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے اور جس دن ایسی کامیابی حاصل ہوئی ہو اسے عید کا دن مجھے احجاتا ہے۔ اور اس میں قسم کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جو شخص کسی قوم کے لئے یا ملک کے لئے یا مذہب کے لئے مفید تھا اور لاکھوں انسانوں کی زندگی کا سہارا اور ان کے لئے آرام کا باعث تھا اس کی حفاظت کے لئے اگر ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کو بھسم کرنا پڑا ہے تو ہو گئے ہیں ۔ اور اس ایک جان کے لئے بے شمار جانیں قربان کر دی گئی ہیں۔ اور قربان ہونے والے اس قربانی پر فخر کرتے ہیں کہ یہ خدمت ہم بجا لا سکے۔ اس قسم کے نظاروں کے شاہد تاریخی اوراق ہیں جن سے اس قسم کے بہت سے واقعات مل سکتے ہیں۔ یہ تو ایک مشہور واقعہ ہے ا اور ہندوستان کی تاریخ پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ جس وقت ہمایوں بادشاہ شیر شاہ سے شکست کھا کر بھاگا تھے۔ اس وقت اس کا مشہور جرنیل بیرم خان دشمنوں کے قبضہ میں آگیا جس کے ساتھ اس کا غلام بھی گرفتار ہوتا جب ان سے پوچھا گیا کہ بیرم خاں کون ہے تو غلام نے کہا ئیں ہوں اس پر بیرم خاں نے کریتی ہی بہت کوشش کی کہ وہ اپنا آپ دشمنوں پر ظاہر کر دے اور انہیں یقین دلا دے۔ بپرم خاں ہوں لیکن اس کے غلام نے ایسا رنگ اختیار کیا اور ایسے طریق سے گفتگو کی کہ دشمنوں کو یقین آگیا کہ وہی بیرم خان ہے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ اس طرح بیرم خان بچ گیا یہ اگر چہ غلام نے جھوٹ سے کام لیا لیکن اس میں شک نہیں کہ اس نے اپنے آپ کو آقا پرست بیان کر کے اس کی جان بچالی - کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ میرے وجود کی نسبت اس رم کا وجو د بہت قیمتی اور کار آمد ہے۔ چنانچہ بیرم خاں ہمایوں کی اس مصیبت کے وقت میں بستے کام آیا اور اسی کے ذریعہ ہمایوں کو بہت سی فوج ملی جس سے اس نے ہندوستان کو دوبا فتح کیا ۔ یہ تو ایک شخص کی قربانی کا واقعہ ہے۔ بعض جگہ تو ہزاروں اور لاکھوں انسانوں نے صرف ایک شخص کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے ۔ ابھی قریب ہی کے زمانہ میں ایک مشهور بادشاہ گذرا ہے جس کا نام نپولین تھا۔ یہ ایک معمولی خاندان کا ممبر اور بہت ہی معمولی حیثیت کا انسان تھا۔ حتی کہ مورخین کو اس کے والدین کے تاریخی حالات میں بھی شبہ پڑا