خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 35

۳۵ اور ا خوش نہیں ہو گا۔ خوش اسی وقت ہو گا جب کہ فصلِ بدات و انحر پر عمل کیا جائے گا اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حضور گرا دیا جائے گا اور ہر ایک قربانی کی جائے گی نی کی جائے گی لیکن اگر یہ نہیں تو پھر کچھ نہیں ۔ پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے فرائض سمجھیں اور ایک طرف اپنے اخلاق وعادات، اعمال و افعال تقویٰ و طہارت میں ترقی کو یا تو دوسری حریف ہر ایک قربانی کریں ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص دوسرے انسان کے احسان کے مقابلہ میں گہرے ۔ کہ میں نے بہت قربانی کر دی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے کسی فضل اور انعام کے مقابلہ میں کوئی بڑی سے بڑی قربانی ایسی نہیں جو پیشیں کی جا سکے ۔ اس کے لئے تو اگر خدا کے لئے جان ومال ، ہیوی بچے ، عزیز و رشتہ دار بھی قتل کرا دینے پڑیں تو پھر بھی کچھ نہیں۔ ایک شاعر تھا تو بے دین مگر اس کا ایک شعر مجھے بہت پسند ہے کہتا ہے ہے ادا نہ ہوا اسی کی تھی حتی تو یہ ہے کہ حق جان دی ۔ دی۔ دی ہوں اس تو دنیا میں ایک انسان کے مقابلہ میں انسان قربانی کر کے اس کا بدلہ اتار سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالئے اور اس کے خاص بندوں کے احسانات اور انعامات کہ وہ بھی خدا ہی کی طرف سے ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں کوئی انسانی قربانی ایسی نہیں جو کچھ حیثیت رکھتی ہو کیونکہ اس کے انعام اس قدر عظیم الشان ہوتے ہیں کہ جن کا شکریہ ادا ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے انسان جو بھی قربانی کرے وہ کم اور تھوڑی ہے مگر کئی لوگ ایسے ہیں جو کچھ خدمت دین کر کے یا چندہ دے کر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ کر لیا ہے ۔ پھر اگر ان سے چندہ مانگا جائے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ہر وقت چندہ ہی مانگا جاتا ہے ، ہم پہلے جو دے چکے ہیں ۔ لیکن ان کو دیکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کے مقابلہ میں کیا قربانی کی ہے۔ وہ تو اگر اپنا سب کچھ بھی خدا کی راہ میں دے دیتے تو پھر بھی احسان ادا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جو کچھ انسان کے پاس ہوتا ہے ، وہ سب کچھ خدا تعالے کا ہی دیا ہوا ہوتا ہے اگر وہ سارا ہی لے لے تو انسان کیا کر سکتا ہے۔ منکر یہ بھی اس کا احسان اور رسم ہے کہ اپنی راہ میں خرچ کرنے کے لئے کچھ ہی کہتا ہے اور باقی ہمارے پاس رہنے دیتا ہے تو اس قسم کے خیالات شیطانی خیالات ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ مومن کو چاہیے کہ جس قدر بھی اس کے ہو سکے ، قربانی کرے لیکن ہو سکنے کا فیصلہ اپنے دل سے نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت دین کو کسی قدرت پانی کی ضرورت ہے ۔ اور وہ اس سے کیسی قربانی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ خدا تعالے کی طرف سے کوئی دینی ضرورت ایسی نہیں پیدا کی جاتی کہ جس کے پورا کرنے کے لئے اس وقت کے لوگوں میں طاقت اور ہمت نہ ہوتے نہ ہو یہ ملکہ ایسی ہی پیدا کی جاتی ہے۔ جس کو لوگ