خطبات محمود (جلد 2) — Page 33
ہے اور بتایا گیا ہے رح اس عید کو حضرت مسیح موعود کے زمانہ کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے ۔ اور بتا اس کہ جس طرح اس میں مومن کے لئے ضروری ہے کہ نماز پڑھے اور قربانی دے ۔ اسی طرح مسیح موعود کے زمانہ میں مومنوں کا وہ ہو گا کہ خوب خدا تعالیٰ کی عبادت کریں اور قربانیاں دیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ مسیح موعود کے آنے کے وقت ان کو ایک ایسا انعام دیا جائے گا کہ اس انعام دیا جائے گا کہ اس کے شکریہ میں وہ اپنے رب کے حضور جس قدر بھی ہو سکے عبادت کریں۔ یہاں پہلے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے یعنی ملا عباد انسان پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرے اور پھر قربانی کرے یعنی دوسروں کی اصلاح دوسروں کی اصلاح کی کوششش کرے ۔ اس میں اُسے جو کچھ خرچ کرنا پڑے کرے ۔ اصل قربانی نفس کی ہی ہوتی ہے اور اسی کو کرنے کی کوشش کرنا چاہئیے ۔ تو اس آیت میں خدا تعالیٰ نے دو اشارے فرماتے ہیں ایک یہ کہ وہ زمانہ خوشی کا زمانہ ہوگا۔ اور مومنوں کو اس میں خاص طور پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے کیونکہ اگر کوئی ایسا نہ کرے تو گویا وہ خدا تعالیے کے اس فضل کو رد کر دیتا ہے اور اس طرح کرنے والے سے خدا تعالیے وہ انعام چھین لیتا ہے ۔ چنانچہ فرتا ہے ۔ تین شدَّةٍ تُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِید کہ اگر تم میرے انعامات پر شکر کرو تو میں اُسے بہت بہت بڑھا دوں گا۔ اور اگر ناشکری کرو تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بہت سخت ہے ۔ تو جو انسان خدا تعالے کے انعام کی قدر نہیں کرتا اس سے چھین لیا جاتا ہے ۔ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة و السلام کو خدا تعالے نے اپنا ایک خاص فضل اور انعام قرار دیا ہے ۔ اگر اس انعام کے ملنے پر خوشی کا اظہار نہ کیا جائے گا تو اس سے محروم کر دیا جائے گا۔ تو خدا تعالے نے یہاں سے کر یہ بتایا ہے کہ تمہارا فرض صرف مسیح موعود کو ماننا ہی نہیں بلکہ اس پر خوشی اور فخر کرنا بھی ضروری ی ہے کہ را فرامین کوماننا اس خوشی اور فخر منزوی ہے۔ اور وہ ایسی خوشی ہونی چاہیئے جیسی کہ کسی کو اپنے گھر بیٹا ہونے کے وقت ہوتی ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ مسیح موعود تمہارے رسول کے ہاں روحانی بیٹا پیدا ہوا ہے۔ پس تم کو ایسی خوشی کرنی چاہئیے کہ تمہارے چہروں سے اس کا پتہ لگے ۔ تمہاری حرکات و سکنات سے معلوم ہو کہ تم مسیح موعود کو مان کر بہت خوش ہو۔ لیکن اگر کوئی مسیح موعود کو ماننے کا دعوئی کرتا ہے مگر اس کے اعمال اور افعال اس کے چہرہ مہرہ سے ، اس کی بات چیت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اسے خوشی ہے تو گویا اس نے مسیح موعود کو قبول ہی نہیں کیا اور اسے کچھ حاصل ہی نہیں ہوا ۔ کیونکہ جس کو کوئی انعام ملتا ہے اس کی خوشی کی علامات اور آثار ضرور اس میں پائے جاتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اگر تم مسیح موعود کو خدا کا انعام سمجھتے ہو تو تمہارے اعمال ، افعانی ، گفت گو اور بشرہ سے اس انعام کی خوشی کے علامات کا پتہ بیچنا چاہیئے