خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 399

664 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رؤیا کا یہ مطلب تھا کہ آپ اپنی مرضی سے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ دادی مکہ ایک بے آب و گیاہ جنگل ہے اور وہاں کھانے پینے کو کچھ نہیں ملتا۔ اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ آئیں۔ چنانچہ آپ نے ایسا ہی ہی کیا ۔ جب حضرت اسمعیل علیہ السّلام بڑے ہوتے تو تو آپ آپ نے اپنی نیکی اور تقوی کے ساتھ اپنے گرد لوگوں کا ایک گردہ جمع کر لیا۔ اور انہیں نمانہ اور زکوۃ اور صدقہ و خیرات کی تحریکات کرکے اور اسی طرح عمرہ اور حج کے طریق کو جاری کر کے آپ نے مکہ کو آباد کرنا شروع کیا۔ چنانچہ ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں صدیوں سے مکہ آباد چلا آتا ہے قریبا تین ہزار سال سے برابر خانہ کعبہ آباد ہے اور اس کا طراف اور حج کیا جاتا ہے ۔ پس عید الاصحبہ کی قربانی بے شک اس قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ مگر اس قربانی کی یاد نہیں ولانی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ظاہری شکل میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری پھیر دی ۔ بعد دبن۔ در حقیقت قربانیوں کی عید ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم خدا تعالے کی خاطر اور اس کے دین کے لئے جنگلوں میں جائیں اور وہاں جا جا کر خدا تعالے کے نام کو بلند کریں ۔ اور لوگوں سے س کے رسول کا کلمہ پڑھوائیں جیسا کہ ہمارے صوفیاء کرام کرتے چلے آئے ہیں۔ اگر ہم ایسا کریں ریقینا ہماری قربانی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ ہوگی ۔ ہم یہ تو نہیں کر سکتے۔ کے کہ وہ قربانی بالکل حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی طرح ہو جائے گی کیونکہ دلوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام سے دل کی حالت اور بیتی اور ہمارے زمانہ کے لوگوں دلوں کی حالت اور ہے مگر ہر حال وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ ضرور ہو جائیگی پس تم اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش کر وہ میرے نزدیک اس زمانہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے مشابہ قربانی وہ مبلغ کر رہے ہیں جو مشرقی اور مغربی افریقہ میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔ وہ غیر آباد ملک ہیں جن میں کوئی شخص خدا تعالٰی اور اس کے رسول کا نام نہیں جانتا تھالیکن ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر انہیں خدا تعالئے اور اس کے رسول کا نام بتایا۔ میں پہلے بھی ایک خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ مغربی افریقہ کے ایک ملک میں عیسائیوں نے اپنے پریس میں احمدی اخبار کا چھاپنا بند کر دیا تو ہمارے مبلغ انچارج جماعت کا علیحدہ پریس لگانے کے سلسلہ میں چندہ اکٹھا کرنے کے لئے ایک جگہ گئے وہاں انہیں ایک ایسا آدمی ملا جسے انہوں نے بڑی تبلیغ کی تھی مگر اس نے احمدیت قبول نہیں کی تھی، بعد میں اس کے پاس ایک مقامی مبلغ پہنچا تو اس نے کہا کہ تمہارے بڑے پاکستانی مبلغ نے مجھے تبلیغ کی ہے لیکن اگر یہ دریا ر وہ اس وقت ایک دریا کے کنارے جارہے تھے، اپنا رخ پھیر کر الٹی طرد خ پھیر کر الٹی طرف چل پڑے تو یہ بات ممکن ہے لیکن میرا احمدیت کو حمدیت کو قبول کرنا ناممکن ہے۔