خطبات محمود (جلد 2) — Page 391
۳۹۱ اور بیٹے کا کیا بنے گا۔ اسی طرح پاکستانی یہ خیال نہ کریں کہ اگر وہ مر گئے تو ان کے بعد ان کے بیوی بچوں کا کیا حال ہو گا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب خدا تعالیٰ نے اپنی بیوی اور اکلوتے بیٹے کو ایک بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑنے کا حکم دیا تھا تو آپ نے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ خدا یا انہیں وہاں کیا خرچ ملے گا ۔ بلکہ آپ نے بغیر کوئی سوال کئے خدا تعالے کے حکم کی تعمیل کی اور کہا کہ اگر وہ بھوک سے مرتے ہیں تو بے شک مریں ۔ دھوپ میں جلتے ہیں تو بے شک جلیں، میں نے خدا تعالیٰ کا حکم پورا کرنا ہے۔ اگر پاکستانیوں کے اندر بھی یہی روح پیدا ہو جاتے کہ ان کے بیوی بچے مرتے ہیں تو مریں ، وہ وطن کی حفاظت کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے تو دیکھو کس طرح کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ اسی طرح اگر یہ روح ہماری جماعت کے افراد میں بھی پیدا ہو جائے تو ہماری تبلیغ کتنی وسیع ہو سکتی ہے ۔ اب تو ہم بعض مبلغین کے بیوی بچوں کو بھی ساتھ ہی بھیج دیتے ہیں لیکن بعض مبلغین نے جب پچھلے دنوں اپنے بیوی بچوں کو بھیجنے کے لئے کہا تو تحریک جدید نے انہیں لکھا کہ اس سے خرچے پڑھیگا ہاں اگر بجٹ بڑھ جائے تو ایسا کیا جاسکتا ہے۔ مجھے اس بات کا علم ہوا تو میں نے کہا اس میں دونوں کا قصور ہے تحریک جدید کا بھی قصور ہے اور مبلغین کا بھی قصور ہے تحریک جدید کا یہ قصور ہے کہ اس نے غیر ابراہیم کو ابراہیم سمجھ نیا اور مبلغین کا یہ قصور ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ابراہیم نہ بنایا۔ اگر وہ فی الواقع ابراهیم بن جائیں تو پچاس سال تک بھی اپنے بیوی بچوں کو بلانے کا نام نہ لیں اتنے عرصہ میں احمدیت دنیا پر غالب آسکتی ہے۔ اور پھر ان کی جنگہ اور مبلغ بھی بھیجے جاسکتے ہیں گویا اتنے لمبے عرصہ میں تحریک جدید پر صرف چند مبلغین کے آنے جانے کا خرچ پڑے گا۔ پس یہ قصہ دونوں طرف کا ہے ، مبلغین ابراہیم نہیں ہیں اور تحریک جدید نے غیر ابراہیم کو ابراہیم سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ جو شخص ابراہیم بنے گا اسے ابراہیمی کام بھی کرنا پڑے گا ۔ا سے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی طرح اپنے بیوی بچوں کو چھوڑنا بھی پڑیگا۔ اگر وہ اپنے بیوی بچوں کو نہیں چھوڑتا تو وہ ابراہیم نہیں اور اگر وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح انہیں خدا تعالے کے لئے ذبح کرتا ہے تو پھر وہ وہیں بیٹھا رہے گا۔ اور تبلیغ کے کام کو جاری رکھے گا۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی رحمت مرکز کے پاس روپیہ بھجوا دے گی۔ اور وہ اس کے بیوی بچوں کو اس کے پاس بھیج دے گا۔ تم دیکھ لو حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کو کھانا کس نے جیتا کیا تھا انہیں کھانا خدا تعالے نے ہی دنیا کیا تھا اور نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو ان کے پاس صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجوروں کی چھوڑ آئے تھے اور یہ تیزیس تو ہفتہ بھر کے لئے بھی کافی نہیں تھیں اور وہ ساری عمر کے لئے دے کر گئے تھے۔ پھر خدا تعالے نے ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ وہ ایک قبیلہ کو وہاں لے آیا۔ اس نے پانی کا چشمہ دیکھا۔ تو