خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 387

له کوئی نہیں جو اس کو توڑ سکے ۔ کوئی نہیں جو اس کو گرا سکے ، وہ کونے کا پتھر ہے جو اس پر گرے گا۔ وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا اور جس پر وہ گرے گا وہ بھی چکنا چور ہو جائے گا۔ یہ خدائی فیصلہ ہے جس کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔ ایک ایک کر کے دنیا اس توحید کے جھنڈے کے نیچے آئے گی۔ یہاں تک کہ ساری دنیا وہاں جمع ہو جائیگی ۔ اور آخر ایک دن آئے گا کہ جس طرح آج کی عید کے دن مکہ میں خدا کی توحید کے نعرے بلند کئے جاتے ہیں دنیا کے کونہ کونہ سے توحید کے نعرے بلند کئے جائیں گے اور خدائے واحد کی تعبیر کہی جائے گی اور جس طرح دنیا سے تمام چھوٹے معبود مٹا کر ایک خدا کی حکومت قائم کی گئی ہے اسی طرح دنیا سے مختلف قومیتیں مٹا کر انسانیت کی حکومت قائم کی جائے گی ۔ اور آسمان پر بھی ایک خدا ہو گا اور زمین پر بھی ایک ہی نسل ہو گی ۔ سب جھوٹی قومیتیں مٹا دی جائیں گی جس طرح سب جھوٹے خدا مٹائے جاچکے ہیں۔ آخر میں میں اللہ تعالے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آئے اور اس عید کا سبق ساری دنیا یاد کر لے ۔ اور ساری دنیا اپنے پیدا کرنے والے خدا کے آگے جھک جاتے ۔ اور فساد اور لڑائی جھگڑا دنیا سے مٹ جائے۔ ہر دل کعبہ بن جائے یعنی خدا کا گھر اور خسیس طرح خدا عرش پر ہے ۔ اسی طرح خدا انسان کے دل میں بھی ہو ۔ ل - پیدائش باب ۲۲ آیت ۲ الصفت ر الفضل ۳۱ اگست ۱۹۵۹) ده من -۱- تفسیر در منثور جلد ۵ له - الصفت ۳۷: ۱۰۳ - ته - پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۳ ہے ۔ پیدائش کی کتاب کی تفسیر ملا مصنفہ پادری کینن سیل ڈی ڈی مترجمه ای- جوزف به ناشر کرسچن ناہم سوسائٹی پنجاب طبع اول مطبوعہ وکٹوریہ پریس بٹالہ ۔ شو - الصفت ١٠٨:٣٠ ت - ابراسیم ۳۸:۱۴ شه - بمياه باب ۸ آیت ۱۳ تا ۱۷