خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 380

اس جگہ سے بھی نکال کر وہاں جا کر رکھا جو ایک وادی غیر ذی زرع تھی۔ جہاں نہ کھانے کا کوئی سامان تھا ، پینے کا کوئی سامان تھا تا کہ اس میں محنت کی عادت پیدا ہو۔ کام کی عادت پیدا ہو۔ قربانی کی عادت پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ابراہیم کا اپنے بیٹے کو اس طرح ایک جنگل میں جا کر چھوڑ دینا گو ظاہر میں اسے اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنا تھا مگر ندَينه بدنم عظیم ہم نے ہمیں کا فدیہ ایک بہت بڑی قربانی کے ذریعہ سے دیدیا ۔ بعض لوگ غلطی سے اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسمعیل کے بدلے ایک مینڈھا قربان کروا دیا۔ حالانکہ یہاں ذبح عظیم کے الفاظ ہیں جس کے معنے ہیں بہت بڑی قربانی اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو بڑی بڑی قومیں سمجھی جاتی تھیں ہم نے ان کو ابراہیم کی نسل پہ قربان کر دیا۔ بڑے لوگ تختوں پر بیٹھتے ہیں مگر وہ قوم جو بھو کی رہنے کی عادی ہو جب اس کے غلبہ کا وقت آتا ہے تو وہ بڑی بڑی حکومتوں کا تختہ الٹ دیتی ہے۔ یہ ایک پیشگوئی تھی جو حقیقی معنوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پوری ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابراہیم نے اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا اور اس نے ایک ایسی جگہ اسے پھیڈ کا یہاں نہ کھانا تھا نہ پانی اور جہاں اس کے زندہ رہنے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ ہم نے اس کی اس قربانی کو دیکھا اور کہا کہ اب اس کے بدلہ میں ایک بہت بڑی قربانی پیش کی جائیگی چنانچہ دیکھ لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے زمانہ میں جو اسماعیل کی نسل میں سے تھے کسی طرح عرب نکلے اور انہوں نے قیصر و کسری کو کاٹ کر رکھ دیا۔ گویا بجائے اس کے کہ سبیل کی نسل بھر کی مرتی اس نے بڑی بڑی دولتوں اور شانوں والی حکومتوں کو تباہ کر دیا ۔ قومی ترقی حقیقت ٹڈی دل کی طرح ہوتی ہے ۔ جس طرح ٹڈیاں جنگلوں میں پلتی ہیں ۔ اور جب ان کی غذا ختم ہو جاتی ہے تو وہ اڑتی ہیں اور بڑے بڑے سر سبز و شاداب کھیتوں کو تباہ کر کے رکھ دیتی ہیں اسی طرح جو قومیں صحیح اصول پر چلنے والی ہوتی ہیں وہ غربت سے گزارے کرتی ہیں محنت اور قربانی سے کام لیتی ہیں۔ مگر جب لوگ پھر بھی ان کو جینے نہیں دیتے اور انہیں مارنے کے لئے اٹھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب ظلم کرنے والوں پر نازل ہوتا ہے ۔ اور وہ غریب اور کمزور سمجھے جانے والے دنیا پر غالب آجاتے ہیں ۔ جب عرب کے لشکر نے ایران پر حملہ کیا تو ایران کے بادشاہ نے اس نمبر کو شنکر کہا کہ یہ جھوٹی خبر ہے میں کس طرح مان لوں ۔ کہ وہ عرب جس میں ہمارے دس سپاھی بھی جاتے تو سارے ملک کو آگے لگا لیتے تھے ۔ اس نے ہم پر حملہ کر دیا ہے ۔ لوگوں نے کہا۔ خبر درست ہے واقعہ میں ہم پر حملہ ہو چکا ہے۔ اس نے کہا۔ اچھا ان کے چند لیڈر بلواؤ ۔ تاکہ میں ان سے خود بات کروں اور پوچھوں کہ آخر ان کا مقصد کیا ہے ۔ چنانچہ وہ گئے اور صحابہ نے ایک وفد تیار کر کے بادشاہ کی ملاقات کے ملاقات کیلئے بھیجوا دیا ۔ جب صحابہ کا وفد پہنچا تو بادشاہ نے کہا۔ میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں