خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 378

تک کی تنخواہ ہزار روپیہ ہوئی مگر اب ڈپٹی کم تر کی تنخواہ تین ہزار روپیہ ہو گئی تھی ۔ اسی طرح کستان سے جو سپاہی آئے ان کو صرف تین رو اپنے ہفتہ کے ملتے تھے یعنی بارہ روپے ماہوار ہمارے ہندوستانی سپاہی کی تنخواہ بعد میں اس سے زیادہ ہو گئی تھی یعنی آج سے پندرہ سولہ سال پہلے اسے اٹھارہ روپیے با پے ماہوار ملتے تھے۔ مگر وہ چھ ہزار میل سے اپنا وطن چھوڑ کر آتا اور اسے تین روپے ایک ہفتہ کے ملتے اور وہ بھی کمیشت نہیں بلکہ ایک روپیہ ہفتہ وار ملتان اور دور دیے سرکاری خزانہ میں جمع رکھے جا۔ جاتے اور کیا جاتا کہ یہ روپیہ اس لئے جمع کیا جا رہا ۔ تا کہ جب تم و سے ہے۔ تم واپس جاؤ تو اپنے بیوی بچوں کے لئے لے جاؤ مگر اس وقت ساری دنیا میں انگریز پھیلتے چلے جاتے تھے۔ ان میں دلیری بھی تھی ، طاقت بھی تھی ہمت بھی تھی۔ مگر جب دولت آئی اور ترقہ پیدا ہوا تو ان کی تنخواہیں پڑھنی شروع ہوئیں اور یا تو پہلے انگریز گھوڑے پر سوار ہو کر سارا سارا دن دھوپ میں پھرتا رہتا تھا اور اس کے ماتحت اسے کہتے تھے کہ جنات کچھ آرام بھی کر لیجئے اور یا پھر ڈاک بنگلے بن گئے جن میں وہ اُترا کرتے ۔ اب سارا دن پیچھے چل رہے ہیں ۔ برفیں آرہی ہیں۔ شرابیں پی جا رہی میں نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں ہمت نہ رہی۔ اور ہندوستانیوں نے انگریزوں کو پکڑ کر نکال دیا یہ گاندھی جی نے اعلان کیا تھا کہ اگر تم ساری ہندوستانی اکٹھے ہو جاؤ تو تم ان لو لوگوں کو میرا یہاں سے نکال سکتے ہو اور سمندر پرے دھکیل سکتے ہو۔ لوگوں نے سمجھا کہ گاندھی جی کوئی معجزہ دکھانے لگے ہیں۔ حالی کا حقیقت یہ بھی گاندھی جی اپنے ملک کے لوگوں کے متعلق تو سمجھتے ہی تھے کہ وہ نمافل اور شکست میں لیکن وہ یہ بھی مجھتے تھے کہ انگریز مر چکے ہیں۔ اور اب انکی لاش کو پھینکنا کوئی مشکل کام نہیں ۔ ستم کی لائن بھی اسی طرح اٹھا کر پھینکی جا سکتی ہے جس طرح ایک کتے کی لاش ۔ گاندھی جی کی ذہانت اور ہوشیاری یہ تھی کہ وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ انگریز اب مر چکا ہے اور نیم جان ہندوستانی بھی ہے اٹھا کر پر سے پھینک سکتے ہیں۔ چنانچہ دیکھ لو، انگریز کو ہندوستان بنتے ہی اٹھا کر نہیں پھینکا، سیلون نے بھی اسے پھینکا ، ہر مانے بھی اسے پھن کا ، مصر نے بھی اسے پھینکا ، ایران نے بھی اسے پھینکا، عراق نے بھی اسے پھینکا ، غرض تمام ممالک کے لوگوں نے اسے اپنے اپنے ملک سے نکال دیا ۔ آخر سمٹ سمٹا کر وہ انگلستان میں محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ اور پھر کچھ مدت کے بعد ممکن ہے ان کی انہیں ہی حالت ہو جائے جیسے ابتدا میں تھی کہ چمڑے کے تہہ بند باندھا کرتے تھے اور ننگے جسم رہا کرتے تھے ہے با اگر یہ زمانہ نہ آئے تو اس کے قریب قریب ان کی حالت پہنچ سیائے۔ گاندھی جی کی عقلمندی یہ نہیں تھی کہ انہوں نے ہندوستانیوں کو زندہ کیا۔ ان کی عقلمندی تھی کہ انہوں نے دیکھ لیا کہ انگریز مریکا ہے۔ اور اب ذرا سے اتحاد کی ضرورت ہے اگر بیند دوستانی اکٹھے ہو جائیں تو وہ ان کو بڑی آسانی