خطبات محمود (جلد 2) — Page 371
کہ اتنے دنوں تک مسلمانوں پر حملہ کیا گیا اور متواتر اور پوری شدت کے ساتھ کیا گیا ۔ یہ حملہ چو ہمیں چوبیس گھنٹے مسلسل کیا گیا اور مسلمانوں کو آرام کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ پھر اگر خندق زیادہ چوڑی ہوتی تب بھی ہم سمجھ سکتے تھے کہ مسلمان مضمون تھے کہ دشمن ہم تک نہیں پہنچ سکتار مگر واقعات بتائے ہیں کہ متعدد بار دشمن کے آدمی مسلمانوں کے علاقہ میں آئے اور پھر واپس بھاگنے پر مجبور ہو گئے وہ سوال اٹھاتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ۔ اتنی تھوڑی تعداد کے باوجود اور دشمن کے اتنے متفقہ جملے کے باوجود جب کہ مسلمانوں کو آرام کرنے کا بھی کوئی موقعہ نہیں ملتا تھا ۔ ایسا کیوں ہوا کہ دشمن جب بھی خندق یار کرکے آتا وہ واپس بھاگنے مجبور ہو جاتا ۔ وہ اس بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مین کی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود ان کی نگاہوں میں اتناء برتھی اور اتنا قیمتی اور مقدس تھا کہ جب دشمن خوب پہنچتا تو مسلما بان نیسان نہیں رہتے تھے بلکہ وہ کچھ اور سی چیزین جاتے تھے، وہ پہاڑوں کو دھکیل کر پرے پھینک دیئے۔ پر تیار ہو جاتے تھے وہ سمندروں کو چیر کر گزر جانے پر آمادہ ہو جاتے تھے وہ اس وقت آپ کی محبت میں اپنے وجود کو بھول جاتے تھے۔ اپنی انسانی کمزوریوں کو بھول جاتے تھے اور مجنونوں کی طرح آگے بڑھ کر ہر سامنے کی چیز کو خس و خاشاک کی طرح اڑا کر پھینک دیتے تھے چنانچہ جب کبھی دشمن کا شکر کود کر آگئے آیا اور اس بنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنا چاہا تو وہ دیوانہ کا اس کے مقابلے کے لئے نکل کھڑے ہوگئے۔ اور انہوں نے کم سامان اور کم تعداد کے باوجود زیادہ سائرو سامان اور زیادہ تعداد رکھنے والوں کو ایسا مارا کہ ان کے لئے ہوا سے بھاگے بھاگنے کے اور کوئی چارہ نعرض فتح بے شک آئی مگر کئی ہفتوں کے بعد۔ درمیانی عرصہ جو ایک نہایت ہی کٹھن زمانہ تھا۔ اس غیر معمولی ایشان اور قربانی اور بے مثال اخلاص اور فدائیت کی وجہ سے گذرا جس کا مظاہرہ جوب کے مختلف حصوں کے مسلمانوں نے کیا۔ جن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی رشتہ داریا نہیں تھیں مگر دینی لحاظ سے ان کا آپ کے ساتھ ایسا تعلق تھا کہ انہوں نے آپ کے لئے اتنی بڑی قربانیاں کیں کہ قریبی رشتہ داروں میں سے کوئی باپ اپنے بیٹے کے لئے یا کوئی بیٹا بھی اپنے باپ کے لئے ایسی قربانی نہیں کر سکتا۔ تو دینی رشتہ دنیوی رشتوں سے بہت زیادہ اہم ہوتا ہے یہی وہ رشتہ ہے جو اپنی شدت کے لحاظ سے اور اپنی اہمیت اور تقدیس کی وجہ سے چھوٹی تو ہوں کو آگے بڑھاتا اور انہیں دنیا پر غالب کر دیتا ہے۔ ان کے اندر اس تعلق کی وجہ سے قربانی اور ایشیار کا ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ایسے دبا نہیں سکتی۔ بدر کی جنگ میں تھوڑے سے سلمان تھے اور پھر انہیں لڑائی کا کسی قسم کا تجربہ حاصل نہیں تھا ۔ جب کفار کا لشکر مسلمانوں