خطبات محمود (جلد 2) — Page 366
۳۶۶ انبیاء سابقین میں سے کوئی نبی بھی ایسا نہیں جو ساری دنیا کی طرف بھیجا گیا ہو ۔ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ اور لہ وسلم ہی ایک ایسے وجود ہیں جو ساری دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے ابیض و اسود اور احمد و صفر سب کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے اور مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں کوئی شخص ایسا نہیں جو میرے دائرہ ہدایت سے باہر ہوئیں۔ مگر اس کے باوجود جب اللہ تعالے سب مسلمانوں کو ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کا حکم دیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کی جسمانی نسل سے نہیں جبکہ ساری دنیا سے خطاب کرتا ہے۔ اور روحانی لحاظ سے ساری دنیا کو ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سے قرآ دیتا ہے ورنہ ابراہیم علیہ السلام صرف ایک قوم کی طرف آتے تھے ۔ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے بلکہ ایک قوم بھی نہیں صرف ایک قبیلہ تھا جس کی طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام بھیجے گئے تھے ۔ بلکہ اگر ہم بائیبل کے بیان کو دیکھیں تو ایک قبیلہ بھی نہیں صرف ایک خاندان تھا۔ جس کی ہدایت کے لئے وہ مبعوث ہوئے ۔ ہیں یہ کہنا کہ وہ شخص صرف ایک خاندان کی طرف آیا تھا تم اس کے نقش قدم پر چلو بتاتا ہے کہ تم کو اس کا خاندا قرار دیا جاتا ہے اور تم بھی آئندہ ابراہیمی نسل میں سے ہو۔ غرض قرآن کریم نے ہمارے لئے ہمارے بزرگوں کی روایات کو زندہ رکھا ہے اگر ہم ان روایات کو یا د رکھیں تو تمہارے اخلاق اور ہماری ہمت اور ہمارے حوصلے کو بڑھانے ہیں۔ یہ بات بہت کچھ مدد دے سکتی ہے یہ ہے یہ بات جو میں نے تمہارے سا۔ مارے سامنے بیان کی ہے۔ یہ علم النفس کے لحاظ سے نہایت ہی اہم ہے اتنی اہم کہ انسان کے اخلاق اور اس کے کردار کو بالکل بدل دیتی ہے۔ میں نے مہیں یہ نکتہ بتایا ہے کہ عید آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں ابراہیمہ نے بڑی قربانی کی۔ لوگ سمجھتے ہیں اسمعیل نے اپنی جان خدا تعالیے ۔ لئے کے لئے دیدی جس وقت لوگ کہتے ہیں کہ ابرا ہم تم نے بڑی قربانی کی اور جس وقت لوگ کہتے ہیں کہ اسمعیل نے بڑی قربانی کی تو دوسر سے الفاظ میں وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ سامی نسل کے ایک انسان ابراہیم نے بڑی قربانی کی یا سامی نسل کے ایک انسان اسمعیل نے بڑی قربانی کی ۔ وہ اس سے یہ نتیجہ نکال رہے ہوتے ہیں کہ وہ بھی انسان تھے اور ہم بھی انسان ہیں۔ اگر وہ ایسی قربانی کر سکتے تھے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔ مگر جو بات میں نے بیان کیا ہے اس کے نتیجہ میں جب ایک مسلمان یہ کہنا ہے کہ ابراہیم نے بڑی قربانی کی یا اسمعیل نے بڑی قربانی کی تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ ایک سامی نسل کے انسان ابراہیم نے بڑی قربانی کی یا ایاب سامی نسل کے انسان اسمعیل نے بڑی قربانی کی ملکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے دادا ابراہیم نے یہ قربانی کی یا میرے دادا اسمعیل نے یہ قربانی کی ۔ اور تم سمجھ سکتے ہو کہ میرے باپ دادا کہنے اور سامی نسل کے