خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 348

مريم سم کی طرح قربان ہونے کی توفیق عطا فر یا لیکن جب قربان ہونے کا وقت آئے تو پیچھے بھاگ جاؤ۔ اگر تم ایسا کرتے ہو تو تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جس کے متعلق لطیفہ مشہور ہے کہ اس کی بیٹی کو جس کا نام مہتی تھا دق اور سیل ہو گئی ۔ وہ ہمیشہ یہ دعا کیا کرتی تھی کہ اسے خدا ! میں مر جاؤں میکن میری بیٹی بچ جائے ۔ جب عزرائیل اس کی جان نکالنے آئے تو اس کی بجائے میری جان نکال ہے۔ اس عورت نے ایک گائے رکھی ہوئی تھی۔ ایک رات کو اس کا رستہ ٹوٹ گیا وہ صحن میں گھس آئی۔ وہاں ایک گھڑا پڑا تھا ا پڑا تھا گائے نے بھوسہ کھانے۔ رسہ کھانے کے لئے اس میں اپنا منہ ڈال لیا گھڑے کا منہ تنگ تھا لیکن بوجہ دباؤ اس کا سہ گھڑے میں پڑ گیا ۔ مگر جب اس سے سر نکالنا چاہا تو وہ نہ نکلا ۔ گائے گھبرائی اور صحن میں اس لئے ناچنا شروع کر دیا ۔ وہ عورت یہ خیال کرتی تھی کہ عزرائیل کی شکل نرالی ہو گی ۔ جب اس گائے کو گھڑا اُٹھائے ناچتے دیکھا تو اس نے خیال کیا کہ یہ عزرائیل ہے ج ہے جو جہتی کی جان نکالنے آیا ہے ۔ وہ پہلے تو یہ دعا تو یہ دعا کیا کرتی تھی کہ یا اللہ ! میں مرجاؤں جہتی نہ مرے اور جب عزرائیل آئے تو میری جان نکال لے جہتی کی عبا ان نہ نکالے لیکن جب اس کے خیال میں عزرائیل جان کا لئے آیا تو وہ سب دعائیں بھول گئی اور کہنے لگی ملک الموت من نه مهتی ام من کے پیر زال محنتی ام یعنی جو عورت پہلے یہ دعا کر رہی تھی کہ عزرائیل میری لڑکی کی بجائے میری جان نکال لے۔ ہے ۔ وہی جب وقت آیا تو کہنے لگی میں نہتی یعنی لڑکی کی والدہ نہیں ایک اور مزدور عورت ہوں ۔ یہی مثال اس شخص کی ہے جو درود پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا تعالیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بیٹے قربان کرنے کے مواقع بارہ بار دے حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو تو ایک دفعہ بیٹا قربان کرنے کا موقعہ ملا تھا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بار بار بیٹا قربان کرنے کا موقعہ ملے۔ پھر اسمعیل علیہ السلام کو تو ایک دفعہ قربان ہونے کا موقعہ ملا تھا۔ لیکن تم دعا کرتے ہو کہ اسے خدا ہمیں بار بار قربان ہونے کا موقعہ دے۔ لیکن جب قربان ہونے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں ملک الموت من نہ مستی ام من کے پیر زال محنتی ام ۔ یہ چیز ہے جو عید الاصحبہ یاد کرانے کے لئے آتی ہے۔ گویا درود کی تشریح عیدالاضحیہ ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ ہم خدا تعالے کی خاطر اپنی جانیں قربان کر دیں گے اور جب تم ہمیشہ یہ اقرار کرتے ہو تو اب اپنی جانیں قربان کر وہ کبھی تمہاری بھی عید الاضحیہ آئیگی کہ نہیں ؟ الفضل ، اکتوبر ۱۹۹) (