خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 343

۳۳۳ کے بیٹے ہیں ہیں کہ لیکن مسلمان بگڑ بھی جاتے ہیں مگر ان میں سے درود درود کی آواز نہیں جاتی ۔ یہ ایسی گل چلی ہے جو ڑک نہیں سکتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ درد و اہم احکام میں سے ہے جس کو با وجود کمزوری کے مسلمان چھوڑ نہیں سکتے ۔ ہر مسلمان درود پڑھتا ہے کوئی کم درود پڑھتا ہے اور کوئی زیادہ پڑھتا ہے کوئی دس دفعہ پڑھتا ہے کوئی بنیں دفعہ پڑھتا ہے اور کوئی سو دفعہ پڑھتا ہے اور کئی مسلمان مسارا سارا دن بھی درود پڑھتے رہتے ہیں۔ ہم انہیں خواہ نکما قرار دیں لیکن ان کی یہ خوبی ماننی پڑگی کہ وہ سارا دن درود پڑھتے رہتے ہیں اور یہ نہایت اچھی چیز ہے بشرطیکہ صحیح رنگ میں ہو لیکن مسلمان نے غور نہیں کیا کہ درود کا کیا مفہوم ہے ۔ - ورود جو سب سے چھوٹا اور سب سے عام ہے یہی ہے۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى ر محمد بن الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مجيد حصري ورود ہے کئی اور درودبھی ہیں جو مختلف روایتوں سے آتے ہیں کیے لیکن جس درود کو عام طور پر پڑھا جاتا ہے وہ یہی درود ہے۔ اس کے آدھے حصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر کیا گیا ہے اور آدھے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ اس کے تین ٹکڑے کئے گئے ہیں۔ پہلے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہے جیسے فرمایا اللهم صل علی محمد وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ - دوسرے ٹکڑے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے جیسے کما صلیت عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ - تیرے ٹکڑے میں خدا تعالے شامل کر لیا گیا ہے۔ جیسے إِنَّكَ حَمِيدٌ مجید میں ہے ۔ گویا درود کے تین حصوں میں سے خدا تعالے نے ایک حصہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دیا اور ایک حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیدیا اور ایک حصہ خود لے لیا۔ عام طور پر لوگ خصوصا عیسائی اور ہندو اسلام پر یہا اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ درود میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ابراہیمی انعام دینے کی دعا کر کے اقرار کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑے تھے۔ ہندوؤں کو اسلام سے بغض تھا اور ہمارا خیال تھا کہ پارٹیشن کے بعد یہ بعض کم ہو جائیگا لیکن یہ بغض اب ب بھی بھی کم نہیں ہوا یسنا جاتا ہے کہ وہاں جب کو کوئی مصنف تاریخ وغیرہ کی کوئی کتاب تصنیف کرتا ہے تو اس کی تان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہی ٹوٹتی ہے ۔ اگر چہ یہ ایسی ہی چیز ہے جیسے چاند پر تھوکنے والے کی تھوک اس کے اپنے منہ پر پڑتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان اعتراضوں سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن ایک مسلمان کا دل دکھتا ہے اور اس کو اپنا دل قربان کرنا پڑتا ہے، اور یہ چیز اس کی روحانیت کے لئے مفید ہو جاتی ہے۔ بہر حال معرومنین میں سے بہتوں نے اعتراض کیا ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علہ یکم