خطبات محمود (جلد 2) — Page 339
۳۳۹ نہ کرنے کی وجہ سے ایک بیکار قسم کی گرمی اور سوزش پیدا ہو گئی ہے یعنی محض باتیں کرنے ، بڑے بڑے دعوے کرنے طلاوجہ فخر کرنے اور یہ کہنے کی کہ ہم یوں کر دیں گے ہم دُوں کر دیں گے کی عادت پیدا ہو ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں میں، بعض روحانی امراض مثلاً بلغم کا آنا ۔ سوزش گلو کھانسی اور ن پیدا ہو گئی ہیں۔ خواب میں یہ نظارہ دکھا کو خدا تعالٰی اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ یہ عادت دور ہونی چاہیئے اور عمل کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیئے۔ نزلہ میری طبیعت پر یہی اثر ہوتا رہتا ہے اور اس نظارہ کے دیکھنے کے بعد وہ اثر زیادہ نمایاں ہو گیا ہے کہ جماعت میں بولنے کی عادت زیادہ ہو گئی ہے اور تحمل کی طرف توجہ بہت کم ہے۔ دو سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ احراری جماعت کے خلاف شرارتیں کر رہے ہیں۔ کہیں احمدیوں کو مارا جا رہا ہے، کہیں سے انہیں نکالا جا رہا ہے۔ کہیں ان کا منہ کالا کیا جا رہا ہے، کہیں حضرت مسیح موعود عليه الصلاة والسلام کو اور مجھے گالیاں دی جاتی ہیں۔ کہیں مکانوں پر نشان لگاتے جاتے ہیں کہ کسی رات اچانک حملہ کر کے تمام احمدیوں کو ختم کر دیا جائے ۔ لیکن ہماری جماعت صرف ریزه و نیوشن لکھکر الفضل کو بھیج دیتی ہے۔ اور الفضل بھی اسے جماعت احمدیہ میں غم دفعتہ کی سر کے عنوان سے شائع کر دیتا ہے۔ حالانکہ میں نے تو یہ غم و غصہ کی ہر جماعت میں کبھی نہیں دیکھی اور یوں بھی مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں کوئی نئی سکیم سوچوں ۔ کیونکہ جب تک جماعت میں کام کا احساس پیدا نہ ہو اور جماعت سنجیدگی سے قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہو اس کے لئے کوئی نئی سکیم سوچنے کا کیا فائدہ ؟ جب احرار کا فتنہ شملہ میں شروع ہوا ، ایک دفعہ میں لاہور کا سفر کر رہا تھا، ایک جو شیلا نوجوان میرے ساتھ آیا۔ اس نے مجھے کہا وہ اب ہمیں کا ندھی جی کی طرح کرنا چاہیئے ۔ میں نے کہا ۔ گاندھی تو فورا مطلب کی بات دیکھ کر صلح کر لیتا ہے۔ کیا تم اپنے امام سے بھی یہی ایی امید رکھتے ہو کہ کہیں ہمالیہ کی غلطی ہوئی کہیں بندھیا چل کی غلطی ہوئی ، کہ میں گنگا اور جمنا کی غلطی ہوئی اور پھر مسلح کر لی۔ اگر اپنے امام کے لئے تم یہ اخلاق پسند کرتے ہو تو پھر تمہارا مشورہ بجا ہے۔ یا پھر یہ ہو کہ امام جنگ کے لئے گئے تو تمام جماعت تیار ہو جائے۔ پھر جنگ میں فتح ہو یا سب لوگ مارے جائیں ۔ میں نے کہا ، بتاؤ کیا ہے بہت ؟ اگر یہ ہو جائے کہ سارے مر جاؤ اور یا فتح حاصل کرو به تب تو مہارا مشورہ مفید ہو سکتا ہے۔ ورنہ دوسروں میں سے اگر ۔ 4 فیصدی لوگ بھی بھاگ جائیں تو ان کی عزت اور درجہ میں فرق نہیں آتا لیکن ہماری جماعت کے دس فیصدی لوگ بھی بھاگ جائیں تو اس کی عزت اور درجہ قائم نہیں رہتا ۔ جب تک یہ نہ ہو کہ یہ نہ ہو کہ مسلمان ۱۰۰ کے اکھڑے ہو جائیں اور پھر اگر ان کی تقدیر میں شکست لکھی ہے تو میدان سے ان کی ۔۔ کی ۔۔ انعشیں برآمد ہوں، اس وقت تک ہم اپنے آپ کو کامیاب خیال نہیں کر سکتے۔ اگر ظاہری طور پر شکستہ ہو جائے اور ۱۰۰