خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 327

۳۲۷ ۳۹ موده ۲ ستمبر 0 بمقام عظیم الاسلام کالج لاہور، وہ دوست جو اخبار پڑھنے کے عادی ہیں ان کو معلوم ہو گا کہ مجھے ڈیڑھ مہینہ سے شدید کھانسی ہے راستہ کی گرد کی وجہ سے یہ شکایت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ اور پھر چونکہ یہاں کئی دن بارش رہی اور اس کی وجہ سے کمرے نم آلود تھے اس نمی نے اور بھی زیادہ کھانسی کے بڑھانے میں مدد دی ہے ، اس لئے نہ تو میں اونچا بول سکتا ہوں اور نہ لمبا بول سکتا ہوں ۔ بہر حال عید کے بعد خطبہ پڑھنا سنت سے ہے۔ اسلئے خطبہ تو میں پڑھوں گا لیکن بجائے کسی ایک مضمون کے میں ایک دو چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کر دینا چاہتا ہوں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں پہلے بوہ میں سنا کرتا تھا لیکن کل میں نے دیکھا تو نہیں ، ہاں میں نے اپنے کانوں سے سنا اور مجھے معلوم ہوا کہ یہاں لاہور میں دو جمعے ہوتے ہیں ، ایک مسجد میں اور ایک رتن با لمے میں مجھے اس بات کو دیکھ کر نہایت تعجب ہوا کیونکہ شریعیت کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک شہر میں ایک ہی جمعہ ہو سکے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چوہدری قسم کے لوگ رتن باغ میں اکٹھے ہو جا۔ جاتے ہیں اور غریب مسجد میں چلے جاتے ہیں ۔ شاید میرے کچھ دن یہاں رہنے کی وجہ سے رتن باغ کو ان کی نگاہ میں وہ فضیلت حاصل ہو گئی ہے جو خانہ کعبہ کو اللہ تعالے کا گھر ہونے کی وجہ سے حاصل ہے ۔ یہ دین کے ساتھ تمسخر ہے اور مومن کے لئے ایسا کرنا ہر گز جائز نہیں۔ اگر تم نے جمعہ کی مشق ہی کوئی ہے تو ہفتہ یا اتوار کے کسی دن اکٹھے ہو کر جمعہ کی مشق کر لیا کرو، دین کو مسخر بنانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نے موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان میں دو جمعے ہوتے تھے کہے یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ دلیل دی جائے کہ حضر که حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة ع موعود عليه الصلوة والسلام کے زمانہ میں قادیان میں تو دو جمعے ہوتے رہے ہیں۔ پھر تمہیں روکا کیوں جاتا ہے۔ سو یا د رکھنا چاہیے۔ کہ اس کی ایک وجہ بھی اور وہ یہ کہ ان دنوں ملک میں شدید طاعون پھیلا ہوا تھا۔ حضرت مسیح موجو موجود عليه الصلوة والسلام والسلام کے الہامات اور آپ کی پیشگوئیوں کے مطابق مسجد مبارک اور اس کے ارد گرد کا خلفہ زیادہ تر طاعون سے محفوظ رہا۔ لیکن مسجد اقصی کے ارد گرد چونکہ کثرت سے ہنڈ رہتے تھے ۔ ان میں طاعون پھوٹی اور ان میں سے اکثر ہلاک ہو گئے۔ اور چھو نا مسئلہ یہ ہے کہ جہاں طاعون سپیلی ہوئی ہو وہاں کے لوگ دوسرے علاقوں میں نہ جائیں اور دوسر سے علاقوں کے لوگ شو طاعون زدہ علاقہ میں نہ آئیں کہ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانہ میں مجد مبارک