خطبات محمود (جلد 2) — Page 311
۳۱۱ عید منائی جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالے کی راہ میں بکرا قربان کیا تھا۔ بکرے کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے اور پھر وہ لوگ جو جنگل میں رہنے والے ہوں اور جن کا گزارہ ہی جانوروں پر ہو، وہ تو بکرے کی کوئی حیثیت ہی نہیں سمجھتے بلکہ بکرے کی قربانی ان کی نگاہ میں انڈے سے بھی زیادہ حقیر ہوتی ہے۔ انہیں انڈے کا میسر آنا زیادہ مشکل ہوتا ہے لیکن بکرا بڑی آسانی سے مل جاتا ہے ۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق تو بائیبل سے پتہ لگتا ہے که ان کے کئی گلتے تھے اسی طرح ! رح ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے بھی کئی گھتے تھے کئی نوکر انہوں نے رکھے ہوئے تھے اور جانور اس کثرت کے ساتھ ان کے پاس تھے کہ ان سے وادیاں بھر جاتی تھیں یہ پیس بکرے کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے کچھ بھی مشکل چیز نہیں تھی ۔ جو چیز مشکل تھی وہ یہ تھی کہ بڑھاپے کے زما ے زمانہ میں پیدا ہونے والا اکیلا بچہ ان کے ہاں موجود ہے اور خدا کہنا ہے کہ اس بچے کو میری راہ میں قربان کر دو۔ اور ابراہیمیم کہتا ہے کہ ہے میرے رہے ہیں اس کے لئے تیار ہوں۔ اور پھر وہ عملی طور پر چھری ہاتھ میں لے کر اسے ذبح کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ پھر حضرت اسمعیل علیہ السلام کو وادی غیر ذی زرع میں رکھے جانے کا حکم دینے میں اللہ تعالے کی طرف سے اس طرف بھی اشارہ تھا میں اشارہ تھا کہ دنیا میں جب بھی کوئی نیا سلسلہ اللہ تعالے کی طرف سے قائم کیا جاتا ہے وہ ایک وادی غیر ذی زرع کا سار کا سارنگ رکھتا۔ کھتا ہے جس طرح ایسی وادی میں بنا انتہائی مشکلات کا موجب ہوتا ہے اسی طرح الہی سلسلوں میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں بہت وہ بھی مقہور معتوب اور لوگوں کی نگاہ میں مغضوب بن جاتے ہیں ۔ لوگ ہر طرح انہیں تکالیف دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر رنگ میں انہیں دکھ اور اذیت پہنچاتے ہیں اسلئے انبیاء اور مامورین کا سلسلہ بھی ایک ادی غیر ذی زرع سے نشان رکھتا ہے پھر اس وقت تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے وادی غیر ذی زرع کا ایک اور نظارہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ قادیان ہمارا مرکز ہے مگر ان دنوں جو لوگ وہاں میں رہتے ہیں ، ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں۔ کیونکہ وہ لوگ وہاں محبوس ہیں اور ہر شخص بغیر کمائی کے اپنی زندگی کے دن بسر کر رہا ہے۔ میں جماعت کے تمام افراد سے پوچھتا ہوں کہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں وہ بکرے کا گوشت کھاتے ہیں وہاں وہ ان کی اس قربانی کی یاد نہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ایک دادی غیر ذی زرع میں جا کر چھوڑ دیا تھا۔ کونسی قربانی پیش کر رہے ہیں ۔ قادیان اس وقت ایک دادی غیر ذی زرع کا رنگ رکھتا ہے اور وہاں رہنا اپنے آپ کو بے آب و گیاہ بستی میں جا کر بہا دینا ہے۔ میں تم سے پوچھتا ہوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح تم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اس قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔