خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 307

اسی لئے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں اس طرح دونوں فائدے ہو گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ابا و علیہ السلام کے ایمان کا بھی ایک روشن ثبوت دنیا کو مل گیا اور دوسری طرف ہمیشہ کے لئے یہ بات مذہب کا جزو بن گئی کہ انسان کی قربانی کسی صورت میں بھی جائزہ نہیں ، خواہ وہ اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ یہ عید اس خوشی میں منائی جاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی خدا تعالے کی راہ میں پیش کی لیکن ہماری یہ حالت ہے کہ ہم ان کے دنبہ کی قربانی کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن ہمارا ذہین اس طرف بالکل نہیں جاتا کہ ہم کس چیز کی یاد مناتے ہیں اور کس چیز کی یاد بھیا اتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو قربانیاں تھیں۔ ایک وہ قربانی جو انہوں نے اپنے بیٹے کی کی اور ایک وہ قربانی جو انہوں نے بکرے کی کی۔ بکرے کی قربانی محض یادگار کے طور پر بھی تا کہ جو قیقی قربانی انہوں نے پیش کی تھی اس کی ایک ظاہری شکل بھی پیدا کر دی جائے ۔ اصل قربانی ان اپنی نسل کو خدا ی ہے کی یہی تھی کہ اِنِّی أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْع میں اپنی نہ واحد کی یاد اور اس کے ذکر کے لئے ایک ایسی جگہ کیسا دیا ہے جہاں دنیوی آمد کا کوئی ذریون نہیں اور جہاں کی زندگی دنیوی مال و متاع کے کھانے میں محمد نہیں ہو سکتی۔ یہ قربانی تھی جو حضرت ابر ا نسیم علیہ السلام نے کی لیکن اس کی یاد کے طور پر خدا تعالے نے یہ بھی فرمادیا کہ تم بکرے کی قربانی کرو۔ (اس موقع پر ایک احمدی نوجوان نے کھڑے ہو کر حضور کا فوٹو ہو کر حضور کا فوٹو لینا چاہا۔ اس پر حضرت امير المؤمنين خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اور اس نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ۔ میاں اپنے کیریکٹر مسلمانوں والے بناؤ ۔ یورپ تمہارا آقا نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے آتا ہیں ۔ کہیں تم نے پڑھا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے۔ کیا چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کے پچھے تم پڑے ہوئے ہو تمہیں بتایا یہ جارہا ہے کہ تم انجیل کی طرح اپنی جانیں قربان کرد اور تم کام وہ کرتے ہو جو محض تعیش کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ نہ تم میری بائیں سنتے ہو اور نہ ضرورت سمجھتے ہو کہ سنو ۔ اگر میرے ایک لفظ پر بھی تم عمل کر لو تو تمہاری اور تمہاری اولادوں کی زندگی سنور جائے۔ لیکن اگر میرا دس ہزار فوٹو بھی تمہارے پاس موجود ہو تو وہ تمہیں ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فوٹو ہمارے پاس نہیں، پھر ہمیں کیا نقصان ہو گیا ۔ اسی طرح اگر میرے فوٹو مٹ جائیں گے تو کیا نقصان پہنچ جائے گا ، اس کے بعد پھر سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا ۔