خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 301

ا۔ ہے۔ میں نے سوچا کہ ممکن ہے آپ پر اس وقت کوئی مصیبت آئی ہوئی ہوا وار آپ مدد کے لئے میرے پاس آتے ہوں اس خیال کے آنے پر میں نے تلوار اٹھا لی کیو کیا یہی اک چیز ہے جس سے میں آپ کی مدد کر سکتا تھا ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ گو آپ کرد رہتی ہیں سے کبھی کروڑ پتیوں پر جی ایسی مصیبت جاتی ہے کہ وہ پیسہ پیسہ کے محتاج ہو جاتے ہیں ۔ رجیسے مشرقی پنجاب میں کئی مسلمان کروڑ پتی تھے مگر آج وہ بالکل کنگال ہیں۔ میں نے ساری عمر پیسہ پیسہ جمع کر کے چار پانچ سو روپیه وپیہ اکٹھا کیا تھا اور اسے زمین میں دبا رکھا تھا ۔ اس خیال کے آنے پر میں نے زمین کھودنی شروع کر دی اور وہ تھیلی نکال لی اس لئے مجھے باہر آنے میں دیر ہو گئی ہے اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے آپ کے گھر والے ہمیار ہوں اور ان کی تیمار داری کے لئے کسی کی مدد کی ضرورت ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو جگایا اور اسے بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ اب یہ تینوں چیزیں حاضر ہیں ، بتائیے آپ کو کیا کام ہے ۔ باپ نے اپنے بیٹے سے کہا۔ دیکھا ! اس قسم کے دوست ہوا کرتے ہیں یہ یہ مثال اپنے اندر یہ سبق رکھتی ہے کہ اگر انسانوں کے دوست اس قسم کے ہو سکتے ہیں تو خدا تعالے کے دوست کو کیسا ہونا چاہیئے اور اسے خدا تعالے کی رضا اور اس کی خوشنودی کو کس طرح مد نظر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔ انسان اگر سچا مومن ہو تو اسے ہر وقت خدا تعالے پر نظر رکھنی چاہیئے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ میرا خدا کدھر دیکھ رہا ہے ۔ پھر جس چیز میں خدا کی رضا ہو اسی چیز کو قبول کرنا چاہیے اور خوشی اور بشاشت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ بہت بڑی مصیبت پر جو ان دنوں ان پر وارد ہوتی ہے سجائے اس کے کہ وہ روئیں اور ہمت ہار کر بیٹھ جائیں ، اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو خوشی سے قبول کریں اور مصائب کو ہمت اور استقلال کے ساتھ برداشت کرنے کی عادت ڈالیں مجھے افسوس ہے کہ باہر سے جو ریفیوجی ( REFUGEE) آرہے ہیں وہ کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھا رہے ۔ بلکہ ہماری جماعت کے بعض دوستوں میں بھی یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ پہلے ایک گاؤں میں جاتے ہیں اور جب انہیں وہاں دانہ وغیرہ مل جاتا ہے تو اس گاؤں سے دوسرے گاؤں چلے جاتے ہیں اور یہ عذر کر دیتے ہیں کہ وہاں زمین اچھی نہیں ہمیں کسی اور جگہ بھیجا جائے ۔ دراصل انہیں بیگار میٹھکر روٹی کھانے کی عادت پڑ گئی ہے۔ اور دوسری طرف چونکہ ان کی اپنی جائدادیں ضائع ہو گئی ہیں ان کے نفس میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور وہ کسی جگہ استقلال کے ساتھ بیٹھ کر کام نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ اگر وہ اپنے خدا پوسچا ایمان رکھتے تو ان مصائب میں بھی ایک لذت محسوس کرتے اور خدا تعالے کے مقابلہ میں ونی کی کسی