خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 21

۲۱ میں بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا خدا تعالے پرائیان نہیں ۔ اگر ان میں حضرت ہاجرہ جتنا ایمان ہوتا۔ تو وہ کبھی یہ خیال بھی نہ کرتے اور دین کے راستہ میں اپنی جانوں اور مالوں وغیرہ کو خرچ کرنے سے ذرا بھی نہ گھبراتے ۔ اور یقین رکھتے کہ لہ اس اس ۔ طرح خرچ کرنے کرنے سے سے ہمارے اموال ل صا ضائع نہیں جائیں نہیں گئے۔ بلکہ اس کے بعد اتنے انعامات حاصل ہوں گے کہ جنہیں ہم شمار بھی نہ کر سکیں گے تو یہ ایسان کی کمزوری ہے۔ عید ہر سال اسی کمزوری کے دور کرنے کے لئے آتی ہے۔ تا کہ وہ لوگ جنہیں تقسین نہ ہو کہ کس طرح خدا کے راستہ میں ایک دانہ خرچ کرنے سے اس قدر پھل مل سکتے ہیں انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمونہ دکھا دیا جائے۔ عید کو عام لوگ ایک میلہ سمجھتے ہیں ۔ مگر دراصل یہ ان کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ تاکہ وہ بیدار اور ہوشیار ہوں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور وہی برکت حاصل کریں جو انہیں حاصل ہوئی مگر افسوس کہ بہت لوگ اس میں سستی اور کوتاہی کرتے ہیں۔ ہماری جماعت کے لئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قربانی کا زندہ نمونہ موجو د ہے۔ جب آپ نے دعوی کیا ۔ اس وقت آپ کی کیا حالت تھی۔ قادیان میں بھی اکثر لوگ آپ کو نہ جات تھے اور آپ یہ دعوی سے کہتے کہ کوئی اس بات کی تردید کرے کہ دھومی سے پہلے میرے نام کوئی خط تک نہ آتا تھا ۔ مگر خدا تعالے کے لئے قربانی کر کے جس قدر اس کو پوشیدہ رکھا جائے۔ اسی قدر زیادہ خدا تعالے اسے ظاہر کرتا ہے۔ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہتے کہ میں نے اپنے آپ کو دنیا سے چھپانا چاہا مگر خدا تعالے نے مجھے کھڑا کر دیا ہے اور ایسا کھڑا کیا کہ اب دنیا کے چاروں کونوں سے آپ کی قربانی کے پھل پیدا ہو رہے ہیں۔ کوئی افریقہ سے کوئی امریکہ سے کوئی ایران سے کوئی ہندوستان سے کوئی افغانستان سے کوئی یورپ سے ۔ رضیکہ ہر سے علاقہ میں آپ کی شاخیں پھیل کر پھل پیدا کر رہی ہیں۔ پھر دیکھو آپ کو کسی بات کی کمی رہی ۔ آپ نے خدا تعالے کے لیئے گالیاں سنیں ، مگر گالیاں دینے والے آپ کو اس جوش سے کے گالیاں نہیں دیتے تھے میں جوش سے اب آپ پر درود بھیجنے والے پیدا ہوگئے ہیں۔ پھر آپ نے خدا تعالے کے لئے اپنے ایسے رشتہ دار اور دوست چھوڑے جو اپنی غرض اور مطلب کے تھے لیکن ان کے بدلہ میں خدا خدا تعالیٰ نے ایسے رشتہ د رشتہ دار اور دوست دیتے جو آپ دیئے جو آپ کے نام پر جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔ کرنے کو تیار ہیں۔ پہلے رشتہ دار اور دوست ان کا کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ ایسے تھے کہ جب کہ جب تک حضرت صاحب ان کو دیتے اور ان کی حاجتیں پوری کرتے وہ آپ کے ساتھ تھے اور اگر کچھ نہ دیتے تو الگ۔ لیکن ان کی بجائے جو خدا نے دیئے وہ ایسے تھے کہ خود حضر صاحب کو اپنا مال دیتے اور اس بات کو اپنے لئے موجب فخر سمجھتے ، یہ کتنا بڑا فرق ہے۔ ایک تو