خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 269

۲۶۹ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حالت تھی کہ گو آپ کو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی مگر کبھی کبھی آپ محبت الہی کے جوش میں وہاں چلے جاتے اور نماز ادا فرماتے ایک دفعہ آپ نماز ادا کر رہے تھے کہ شہر کے فنڈے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ کو مارنا شروع کر دیا ۔ اور پھر آپ کے گلے میں رہتی ڈال کر گلا گھونٹنے لگ گئے یہاں تک کہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے یوں لگتا تھا کہ آپ کی آنکھیں باہر آگئی ہیں۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہاں آئے اور مارنے والوں اور آپ کے درمیان کھڑے ہو گئے اور انہیں ہٹانا شروع کیا۔ آپ اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خون پو نچھتے جاتے تھے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اسے میری قوم تم کو کیا ہو گیا کہ تم ایک شخص کو محض اس لئے مار رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ ان ہو کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے یہ بیه ان حالات میں اور اس ق اور اس قسم کے اعتراضوں کو دیکھ کر خدا تعالے کی غیرت آسمان پر جوش میں آئی اور اس نے کہا۔ اسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ لوگ کہتے ہیں کہ تیرے ماننے والے تھوڑے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ تیری نرمینہ اولاد کوئی نہیں۔ اور یہ لوگ مجھے خانہ کعبہ میں بھی نماز پڑھنے نہیں دیتے ۔ مگر اے ہمارے رسول ! ایک دن ہم تجھ کو اس شہر پر غالب کریں گے اور تو ایک بہت بڑی مسلمانوں کی جمعیت کے ساتھ یہاں آکر بیچ کرے گا ۔ اور کھلے بندوں نماز پڑھے گا عید ادا کرے گا اور قربانیاں کریگا اور تیرے دشمن جو آج تجھ پر طعنہ زنیاں کر رہے ہیں ان کا نام و نشان بھی نہیں ملے گا چنانچہ فرماتا ہے۔ اِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - یہ تجھے کہ رہے ہو کہہ رہے ہیں کہ تیرے ساتھی تھوڑے ہیں۔ یہ تجھے کہہ رہے ہیں کہ تیری نسل تیرے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ مگر یہ بالکل غلط ہے۔ ہم تمھیں ایک بہت بڑی جماعت دیں گے اور خالی جماعت ہی نہیں دیں گے بلکہ غالب جماعت دیں گے جو اس شہر پر غالب آئے گی اور یہاں آکر حج کرے گی ۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ جب ہم تجھے کثرت عطا کریں گے جب ہم تجھے غلبہ عطا کریں گے اور تم حج کرو گے اس وقت یہاں آکر خدا کی عبادت کرنا اور اس کی راہ میں قربانیاں کرنا۔ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَر اس وقت تمہارے دشمنوں کا نشان بھی نہیں ملے گا اور صرف تمہاری ہی نسل باقی ہوگی۔ یہ وہ حج تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد کیا اور جس میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ تجھ پر سب سے زیادہ اعتراض کرنے والے ابو جہل ، عتبہ شیبہ اور ولید و غیره اس وقت تک مٹادیئے جائیں گے۔ چنانچہ خدا نے یہ کیسا زبردست نشان دکھایا کہ جس وقت رسول کریم