خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 267

۳۶۷ ان کا ہاتھ پکڑا ۔ خانہ کعبہ میں لے گیا ۔ اور وہاں جا کر اعلان کر دیا کہ اسے لوگوسن لو۔ عثمان بن مطعون میری حفاظت میں ہے اگر اس کو کسی نے کچھ کہا تو اس نے اسے نہیں بلکہ مجھے کیا۔ عربوں میں اس بات کا بڑا لحاظ کیا جاتا تھا کہ جس شخص کا ادب اور احترام ان کے دلوں میں ہوتا تھا وہ جس کو بھی اپنی پناہ ہیں۔ میں لے لیتا اسے کوئی شخص تکلیف نہیں پہنچا سکتا تھا۔ عثمان بن مظعون بھی کھلے بندوں مکہ میں پھرنے لگے اور کوئی شخص انہیں چھیڑ نہیں سکتا تھا۔ مگر ایک دن جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ بعض مسلمانوں کو لوگ مار رہے ہیں اور بعض غلاموں کو دیکھا کہ لوگ ان کو گلیوں میں گھسیٹ رہے ہیں۔ ان کے مومنوں پتھوک رہے ہیں اور انہیں کوڑے لگا رہے ہیں ۔ یہ نظارہ دیکھ کر ان سے برداشت نہ ہو سکا ۔ وہ واپس آئے اور جس رئیس نے انہیں پناہ دی تھی اس سے آکر کہنے لگے کہ آپ نے مجھ پر بڑا احسان کیا تھا جو مجھے پناہ دی۔ اور مکہ والوں کے ظلموں سے مجھے بچایا۔ مگر آج میں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو اس طرح ظلم کا نشانہ بنتے دیکھا ہے کہ مجھ سے یہ بے غیرتی اور بے حیائی برداشت نہیں ہو سکتی کو ان کو تو ماریں پڑیں اور مجھے نہ پڑیں ۔ لیکن آپ کا اعلان واپس کرنے کیلئے آیا ہوں ۔ اس نے کہا بچے! سوچ لو ۔ انہوں نے کہا بین نے خوب سوچ لیا ہے ۔ چنانچہ اس نے اعلان کر دیا کہ میں نے عثمان بن مطعون کو جو پناہ دی ہوئی تھی وہ واپس لیتا ہوں ۔ تھوڑے دنوں کے بعد حج کا موقعہ آیا اور عرب کے مشہور شاعر بعید جو بعد میں اسلام لے آئے تھے اور جو ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہوئے وہ حج کے دنوں میں مکہ میں آئے اور انہوں نے اپنے شعر سنائے۔ تمام رؤسا جمع تھے مجلس لگی ہوئی تھی اور سب تعریفیں کر رہے تھے کہ اشعار سناتے سناتے انہوں نے یہ صرفہ الا كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ پڑھا شدہ خدا کے سوا ہر سپیز فنا ہونے والی ہے۔ عربوں کو زبان کا چسکا تو پڑا ہی ہوا تھا۔ صحابہ بھی اس سے متاثر تھے اور وہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ داد دیا کرتے تھے عثمان بن مظعون اس وقت مجلس میں موجود تھے جب اس لئے کہا۔ الأكل شيءٍ ما خلا الله باطل سنو ہر چیز خدا کے سوا فنا ہونے والی ہے تو عثمان بن مظعون نے کہا ۔ سچ کہا سچ کہا وہ اپنے آپ کو اتنا بڑا آدمی سمجھتا تھا کہ سوائے بڑے بڑے ادیبوں اور رؤساء کے اپنے اشعار کی کسی سے تعریف سننا بھی اپنی ہتک سمجھتا تھا اس نے جب سنا کہ ایک لڑکے نے اس کا مصرعہ سُن کر کیا ہے کہ سچ کہا سچ کہا تو اس نے وہیں شعر پڑھنے بند کر دیئے اور مکہ والوں سے کہا کیا تم میں اب کو ئی شریف آدمی نہیں رہا۔ یہ کل کا چھو کرا مجھے داد دیتا ہے۔ کیا میں اس کی داد کا محتاج ہوں اگر یہ کہے گا کہ میں نے